| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
ترجمۂ کنز الایمان:اوریاد کروجب اللہ نے عہدلیا ان سے جنہیں کتاب عطا ہوئی کہ تم ضروراسے لوگوں سے بیا ن کردینا۔(پ4، اٰل عمران:187)
حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''اس سے مراد وہ قسمیں ہیں جو زمانۂ جاہلیت میں معاملات پر اٹھائی جاتی تھیں۔'' جبکہ امام زجاج کہتے ہیں :''عقود سے مراد عہدہیں کیونکہ عہد کسی چیز کو ثابت کرتے ہیں اور عقود بھی احکام اور معاہدے کے ثبوت پر دلالت کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایمان بھی چونکہ ایک عقد اور عہد ہے یعنی اللہ عزوجل کی ذات، صفات اور احکام کی معرفت حاصل کرناتو اس اعتبار سے مخلوق پر یہ لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنے وعدے کو نبھاتے ہوئے اللہ عزوجل کے تمام احکام کے سامنے سرِ تسليم خم کرديں ۔
لہٰذا گذشتہ آیتِ کریمہ کا معنی یہ ہو گا :''تم نے اپنے ایمان سے جو مختلف قسم کے عہد و پیمان اور اللہ عزوجل کے تمام اوامر ونواہی میں اس کی فرمانبرداری کواپنے اوپر لازم ٹھہرا لیا ہے تو اب ان سب عہدوں کو پورا کرو۔''
(1)۔۔۔۔۔۔سیدنا ابن شہاب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :'' سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جو مکتوب حضرت سیدنا عمرو بن حزم کو نجران بھیجتے وقت عطا فرمایا تھا میں نے اس کی ابتداء میں یہ لکھا ہوا پڑھا :''یہ وضاحت اللہ عزوجل اوراس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی جانب سے ہے:یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوْفُوۡا بِالْعُقُوۡدِ ۬ؕ اُحِلَّتْ لَکُمۡ بَہِیۡمَۃُ الۡاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیۡکُمْ غَیۡرَ مُحِلِّی الصَّیۡدِ وَاَنۡتُمْ حُرُمٌ ؕ اِنَّ اللہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیۡدُ ﴿1﴾یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآئِرَ اللہِ وَلَا الشَّہۡرَ الْحَرَامَ وَلَا الْہَدْیَ وَلَا الْقَلَآئِدَ وَلَاۤ آٰمِّیۡنَ الْبَیۡتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوۡنَ فَضْلًا مِّنۡ رَّبِّہِمْ وَرِضْوَانًا ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوۡا ؕ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنۡ صَدُّوۡکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنۡ تَعْتَدُوۡا ۘ وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ۪ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۪ وَاتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الْعِقَابِ ﴿2﴾ حُرِّمَتْ عَلَیۡکُمُ الْمَیۡتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیۡرِ وَمَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللہِ بِہٖ وَالْمُنْخَنِقَۃُ
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو!اپنے قول پورے کروتمہارے لیے حلال ہوئے بے زبان مویشی مگروہ جوآگے سنا یا جائے گا تم کولیکن شکار حلال نہ سمجھو جب تم احرام میں ہوبے شک اللہ حکم فرماتاہے جوچاہے ، اے ایمان والوحلال نہ ٹھہرا لو اللہ کے نشان اور نہ ادب والے مہینے اور نہ حرم کو بھیجی ہوئی قربانیاں اور نہ جن کے گلے میں علامتیں آویزاں اور نہ ان کا مال وآبرو جو عزت والے گھر کا قصد کر کے آئیں اپنے رب کا فضل اور اس کی خوشی چاہتے اور جب احرام سے نکلو تو شکار کر سکتے ہو اور تمہیں کسی قوم کی عداوت کہ انہوں نے تم کو مسجد حرام سے روکا تھا زیادتی کرنے پر نہ ابھارے اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے تم پرحرام ہے مردار اورخون اور