کبیرہ نمبر53: وعدہ پورا نہ کرنا
اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے :
(1) وَاَوْفُوۡا بِالْعَہۡدِ ۚ اِنَّ الْعَہۡدَکَانَ مَسْـُٔوۡلًا ﴿34﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اورعہدپورا کروبے شک عہدسے متعلق سوال ہونا ہے۔(پ15، بنیۤ اسرآء یل:34)
(2) یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوْفُوۡا بِالْعُقُوۡدِ ۬ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو!اپنے قول پورے کرو۔(پ6، المآئدۃ: 1)
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ بِالْعُقُوْدِسے مراد اللہ عزوجل کی حرام، حلال اور فرض کردہ اشیاء اور ان میں کی گئی حدبندیاں ہیں۔'' سیدناامام مجاہد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
اسی وجہ سے امام ضحاک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا :''یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں نبھانے کا اللہ عزوجل نے وعدہ لیا ہے کہ وہ اس کے حلال، حرام اورفرض اُمور جیسے نماز وغیرہ ادا کریں گے۔''
یہ تفسیر سیدنا ابن جریج رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اس قول سے بہتر ہے :''یہ آیتِ مبارکہ اہلِ کتاب کے بارے میں نازل ہوئی یعنی اے پچھلی کتا بوں پر ایمان لانے والو! تم سے شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بارے میں جو عہد لئے گئے ہیں انہیں پورا کرو ان میں سے ایک عہد یہ بھی ہے: