Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
355 - 857
(3) کَفٰی بِاللہِ شَہِیۡدًۢا
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ گواہ کافی ہے۔(پ13، الرعد:43)

    یعنی اللہ عزوجل کی گواہی کافی ہے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سچائی اور رسالت پر یا اس بات پر کہ نیکی یابرائی اللہ عزوجل ہی کی جانب سے ہے۔ 

    اہلسنّت کے دلائل وہ مثالیں ہیں جو متعدد آیات میں بیان ہوئیں جیسے دل اور سماعت پر مہر لگنا، دل پر زنگ چڑھنا، کان بند ہو جانا، بصارت پر پردہ پڑ جانا وغیرہ ان مثالوں کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہے، اہلِ سنت اس بات کے قائل ہیں کہ بندوں کے افعال اللہ عزوجل کی مخلوق ہیں اور یہ سب باتیں ان کے مذہب میں بالکل ظاہر ہیں۔پھران کے بھی دوقول ہیں: (۱) یہ تمام مثالیں کافروں کے دل میں کفرپیدا کرنے سے کنایہ ہیں (۲)اللہ عزوجل نے کچھ ایسے دواعی پیدا فرمائے ہیں کہ جب قدرت ان کے ساتھ ملتی ہے تویہ دواعی اورقدرت کامجموعہ وقوعِ کفر کا سبب بن جاتا ہے۔ 

    معتزلہ ان الفاظ میں تاویل کر کے اپنی قاصر اور فاسد عقلوں سے نصوص شرعیہ میں تحریف کرتے ہوئے انہیں ان کے ظاہر سے نکال کر تَحَکُّمًا جیسے چاہتے ہیں پھیر دیتے ہیں، کبھی اسے رد کر دیتے ہیں اور کبھی اس میں تاویل کرتے ہیں۔ تو اللہ عزوجل نے انہیں رسوا کیا اور ہلاکت میں مبتلاکر دیا، یہ کتنے غبی وبے وقوف ہیں! کتنے بہرے اندھے ہیں! گمراہی سے بچنے کے معاملہ میں راہِ ہدایت سے کتنے دور ہیں! اللہ عزوجل کی واضح نشانیوں اور اس کے تمام حوادث کے خالق ہونے سے کتنے غافل ہیں! اور یہ بات ایک عاجز، ضعیف اور اللہ عزوجل کی عظمت ورفعت اور اس کے خاص علوم سے جاہل بندے کے لائق کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ اللہ عزوجل کا یہ فرمان بھلا دے:
لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿23﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اس سے نہیں پوچھاجاتا جووہ کرے اوران سب سے سوال ہوگا۔(پ17، الانبیآء:23)

    پھرکہے :''اللہ عزوجل نے کفار میں جو صفات پیدا فرمائیں ان کی بناء پر وہ ا ن کی مذمت کیسے کر سکتا ہے؟ اس صورت میں ان کا کون سا گناہ ایسا ہے جس پر وہ انہیں عذاب دے گا؟'' وغیرہ ایسے خرافات جو ان کے بندگی کے دائرے سے فرار ہونے اور اللہ عزوجل کے لئے عاجزی اور اس کی تقسیم پر رضامندی سے خارج ہونے کی خبر دیتے ہیں ان کی بربادی کے لئے یہی واہیات اُمور ہی کافی ہیں جن میں پڑ کر وہ خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے لگے، سرکشی اختیار کی اور پھر اس پر ڈٹ بھی گئے، اگروہ اپنے نظریات پر غور کرتے تو خود کو کفار کے اس قول سے مربوط پاتے جسے قرآن پاک میں یوں بیان کیاگیاہے:
Flag Counter