Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
354 - 857
محتاج نہیں، کیونکہ قراء ت مشہورہ کو بھی استفہامِ انکاری پر محمول کرنا درست ہے جیسا کہ اگر اس کا حجت ہونا ثابت ہو جائے تو مشہور قراء ت میں اس کی نظیر اکثر مفسرينِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کاوہ قول ہے جو انہوں نے اللہ عزوجل کے اپنے خلیل حضرت سیدنا ابراھیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام سے حکایت کردہ قول میں ارشاد فرمایا:
فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ
ترجمۂ کنز الایمان:پھرجب چاند چمکتا دیکھا بولے اسے میرا رب بتاتے ہو۔(پ7، الانعام:77)

    کیونکہ آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام نے یہ بات استفہامِ انکاری کے طور پر ہی کہی تھی۔ اسی طرح اس آیتِ مبارکہ میں بھی یہ کہنا درست ہے اگرچہ حجیت اسی پر موقوف نہیں جیسا کہ ہمارے ثابت کردہ بیان سے ظاہر ہے۔ اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوگا کہ وہ ایمان جو اس بندے کے قصد سے واقع ہوا وہ اللہ عزوجل کے اس قول''فَمِنَ اللہِ''سے ظاہر ہوا کہ وہ اس بندے سے واقع نہیں ہوا بلکہ اللہ عزوجل کی طرف سے ہوا ہے، لہٰذا وہ کفر جس کا نہ اس بندے نے قصد کیا، نہ ارادہ اور نہ ہی کبھی اس پر راضی ہوا تو عقل میں یہ بات کیسے آ سکتی ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ کفر اس بندے سے واقع ہوا ہے، بلکہ یہ تو بدرجۂ اَولیٰ اللہ عزوجل کی طرف سے ہے کیونکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جب وہ چیز جس میں نفس کی رغبت ہو، قصد ہواور ارادہ ومحبت بھی ہوتو وہ نفس سے نہیں بلکہ اللہ عزوجل کی جانب سے ہوتی ہے۔ تو جس میں نہ نفس کا حصہ ہو، نہ محبت اور نہ ہی قصدوارادہ تووہ چیز تو بدرجۂ اَولیٰ اللہ عزوجل ہی کی جانب سے ہو گی، اوراللہ عزوجل نے آیتِ مبارکہ کے آخرمیں ارشاد فرمایا:
وَکَفٰی بِاللہِ شَہِیۡدًا ﴿166﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اوراللہ کی گواہی کافی۔(پ6، النسآء:166)

    یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس سے مراد تمام اُمورکا اللہ عزوجل کی طرف منسوب ہونا ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر صرف رسالت اور تبلیغ ہی کی ذمہ داری تھی جو کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اچھی طرح نبھائی اور اس میں کوئی کوتاہی نہیں برتی اور اس پر اللہ عزوجل کی گواہی ہی کافی ہے، نیز ہدایت کا حاصل ہونا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ عزوجل کی طرف سے ہے، چنانچہ اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے :
(1)لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمْرِ شَیۡءٌ
ترجمۂ کنز الایمان:یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں۔(پ4، اٰل عمران:128)
(2)اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنْ اَحْبَبْتَ
ترجمۂ کنز الایمان: بیشک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کر دو۔ (پ20، القصص:56 )
Flag Counter