Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
353 - 857
جواب:تم نے اس آیتِ مبارکہ سے جو رائے اختیار کی ہے اس کا بطلان ظاہر ہو چکا ہے اور تمہاری یہ رائے تمہیں کوئی نفع نہ دے گی، کیونکہ جب اس آیتِ کریمہ سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ایمان اللہ عزوجل کی طرف سے ہے تو یہ بھی ثابت ہو گیا کہ کفر بھی اللہ عزوجل کی مشیّت سے ہے کیونکہ ہر وہ شخص جو اس بات کا قائل ہو کہ ایمان اللہ عزوجل کی جانب سے ہے وہ اس بات کا بھی قائل ہوتا ہے کہ کفر بھی اللہ عزوجل کی طرف سے ہی ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ ان میں سے ایک تو اللہ عزوجل کی جانب سے ہے مگر دوسرا نہیں تو یہ اجماعِ اُمت کے خلاف ہے۔

    اسی طرح اگر بندہ کفر ایجاد کرنے پر قادر ہو تو کفر ایجا د کرنے کی قدرت یا تو ایمان ایجاد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو گی یا نہیں، اگر اسے ایجاد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو یہ قول مردود ہو جائے گا کہ بندے کا ایمان اس کی اپنی جانب سے ہے، حالانکہ آیتِ مبارکہ سے اس کا بطلان ثابت ہو چکا ہے، اور اگر ایجاد کرنے کی صلاحیت نہ پائے تو اس سے یہ بات ثابت ہو گی کہ وہ ایک چیز پر قادر ہے اور اس کی ضد پر قادر نہیں، حالانکہ یہ بات معتزلہ کے نزدیک محال ہے، لہٰذا یہ بات ثابت ہو گئی کہ جب بندے سے ایمان ثابت نہ ہو تو ضروری ہو گاکہ کفر بھی ثابت نہ ہو۔

    جب بندہ ایمان کو ایجاد نہیں کر سکتا تو کفر کو ایجاد کرنا بدرجۂ اَولیٰ اس کے بس میں نہیں ہونا چاہے کیونکہ کسی شے کا مستقل مُوجد وہی ہوتا ہے جو اپنی مراد کے حصول پر قادر ہو، دنیا میں کوئی ایسا عقل مند نہیں جو چاہتا ہوکہ اس کے دل میں موجود خیالات جہالت اور گمراہی پر مشتمل ہوں، لہٰذا جب بندہ اپنے افعا ل کا موجد ہو اس حال میں کہ وہ حقیقی علم حاصل کرنے کاقصد کرے تو اس کے دل میں لازماً حق ہی آئے گا، اور جب اس کا مقصود ومطلوب اور مراد ایمان ہو اور وہ اس کی ایجاد سے واقع نہ ہو تو جس جہالت کا نہ اس نے ارادہ کیااور نہ ہی اسے حاصل کرنے کا قصد کیا اور وہ اس سے شدید نفرت بھی کرتا ہے تو وہ بھی بدرجۂ اَولیٰ واقع نہ ہو گی۔

    علامہ جبائی نے استفہام کے ساتھ یعنی اَفَمِنْ نَفْسِکَ پڑھنے والوں کے بارے میں جو الزام تراشی کی ہے وہ محض اپنے پیروکاروں کی طرح اس کا بھی ایک افترأ ہے، کیونکہ اہلِ سنت اس قراء ت پر اعتماد نہیں کرتے اور نہ ہی اسے معتزلہ کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، اس معاملہ میں حق یہ ہے کہ اگر صحابہِ کرام یاتابعینِ عظام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کسی سے اس طریقے سے پڑھنا صحیح سند سے ثابت ہو جائے تو اسے قبول کرنا واجب ہے، اور اس وقت یہ قراء ت ان معتزلہ کے خلاف حجت ہو گی کیونکہ اگر قراء ت شاذہ کی صحیح سند مل جائے تو وہ صحیح قول کے مطابق حجیت میں صحیح حدیث کی طرح ہوتی ہے اور اگر اس کی سند درجۂ صحت تک نہ پہنچے تو اس کی جانب التفات درست نہیں ۔ اس آیتِ کریمہ کا معتزلہ کے خلاف حجت ہونا اس قراء ت شاذہ کا