Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
352 - 857
جبکہ یہ نہیں کہاجاتاہے :''اے بندروں اور خنزیروں کے خالق!'' یہ کہاجاتاہے :''اے زمین وآسماں کے مدبّر!'' جبکہ یہ نہیں کہا جا تا : ''اے جوؤں اورگبریلوں کے مدبّر!'' اسی طرح حضرت سیدنا ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام نے مرض کو اپنی طرف منسوب کیا اور شِفاء کی نسبت اللہ عزوجل کی جانب فرمائی۔

    جب آپ ہماری ثابت کردہ اس بات پر غور کریں گے تو آیتِ کریمہ کے الفاظ کو حشوو زوائديعنی کمی بيشی سے پاک اور فصاحت و بلاغت کی اِنتہا پر پائیں گے، جبکہ معتزلہ کا فاسد گمان الفا ظِ قرآنی میں خلل ڈالتا ہے اور اس کے اسلوب کو کسی موجب اور داعی کے بغیر تبدیل کر دیتا ہے، جبکہ قرآن کی جلالت اس تبدیلی کا انکار کرتی ہے کیونکہ ہم نے لفظ اِصَابَۃٌ کے استعمال کے مطابق جو تعبیر ابھی بیان کی ہے وہ ہمارے موقف پر صریح دلالت کرتی ہے، اوربالفرض اگر سیئۃٌاور حسنۃٌ کی مراد کے بارے میں ان کی بات مان بھی لیں تب بھی اس میں ان کے مؤقف پر کوئی دلیل نہیں بلکہ آیتِ مبارکہ تو ان کے خلاف دلالت کرتی ہے کیونکہ اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ ایمان اللہ عزوجل کے تخلیق کرنے سے حاصل ہوا کیونکہ ایمان ایک نیکی ہے اور نیکی، برائی کی تمام صورتوں سے پاک ایک خوشی کا نام ہے اور ایمان بھی ایسا ہی ہے، لہٰذا اس کا نیکی ہونا ثابت ہوا، اسی لئے اس بات پرسب متفق ہیں کہ اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان سے کلمہ شہادت مراد ہے:
وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًامِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ
ترجمۂ کنز الایمان:اوراس سے زیادہ کس کی بات اچھی جواللہ کی طرف بلائے۔ (پ24، حٰمۤ السجدۃ:33)

    اور اللہ عزوجل نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں احسا ن کی تعبیر بھی کلمۂ شہادت ہی سے کی ہے:
اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِاْلعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ حکم فرماتاہے انصاف اور نیکی کا۔(پ14، النحل:90)

    جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ ایمان ایک نیکی ہے تو اس آیت کے مطابق ہر نیکی اللہ عزوجل کی طرف سے ہے اور معتزلہ کا گمان بھی یہی ہے تو پھر یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو گئی کہ ایمان بھی اللہ عزوجل کی طرف سے ہے جیسا کہ یہ آیتِ کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے، حالانکہ معتزلہ اس کے قائل نہیں، لہٰذا اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایمان کے حسن کی معرفت اور اس کی ضد یعنی کفر کی برائی کی وجہ سے اللہ عزوجل کے قول مِنَ اللہ سے مراد اللہ عزوجل کی تقدیر اور ہدایت ہے۔ 

سوال:ہم کہتے ہیں کہ تمہارے نزدیک ایمان وکفر کی طرف نسبت کرنے میں تمام شرائط مشترک ہیں تو بندہ اپنے اختیار سے اسے وجود میں لاتا ہے اوراس میں اللہ عزوجل کی قدرت اور اعانت کا کوئی دخل نہیں ہوتا، لہٰذا تمہارے نزدیک یہ اللہ عزوجل سے ہر صورت میں منقطع اور اللہ عزوجل کے اس فرمان
'' مَااَصَابَکَ مِنْ حَسَنَہٍ فَمِنَ اللہِ ''
کے مخالف ہے۔
Flag Counter