| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
تو منافقین اور یہودیوں نے کہا :''جب سے یہ شخص یعنی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اور اس کے ساتھی آئے ہیں، ہمیں اپنے پھلوں اور کھیتیوں میں مسلسل نقصان ہو رہا ہے۔'' اس طرح وہ نعمتوں کو تو اللہ عزوجل کی طرف منسوب کرتے تھے جبکہ آزمائش اور پریشانی کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف منسوب کرتے تو اللہ عزوجل نے انہیں ان کی فاسد باتوں کی خبر دی اور پھر اس کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
''قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللہِ۔''
پہلے افعال کا مصدرِ اصلی بیان فرمایا پھر ان کا سبب بتایا اور دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو مخاطب کیا جبکہ مراد دیگر لوگ تھے اور ارشاد فرمایا کہ
مَااَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ
یعنی تمہیں جو نعمت یعنی خوشی اور مدد وغیرہ ملی فَمِنَ اللہِ یعنی وہ محض اللہ عزوجل کے فضل سے ملی ہے، کیونکہ اللہ عزوجل پر کسی کا کوئی حق نہیں
وَمَااَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَفْسِکَ
یعنی تمہیں جو تنگدستی لاحق ہوئی وہ تمہارے نفس کی نافرمانی کی وجہ سے، حقیقتًايہ ہے تو اللہ عزوجل ہی کی طرف سے مگر نفس کے گناہ کے سبب اسے سزا دینے کے لئے ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے:
وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِیۡکُمْ
ترجمۂ کنز الایمان:اورتمہیں جومصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جوتمہارے ہاتھوں نے کمایا۔(پ 25، الشورٰی:30)
حضرت سیدنا مجاہد کی حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت بھی اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس آیتِ مبارکہ کو یوں پڑھا :'' وَمَآاَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَفْسِکَ وَاَنَا کَتَبْتُھَا عَلَیْکَ''
یعنی تجھے جو مصیبت پہنچی وہ تیرے نفس کی وجہ سے ہے میں نے تو صرف اسے تیرے لئے لکھ دیا تھا۔
حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ عزوجل و علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام کا حکایت کردہ قول قرآن کریم میں بیا ن فرمایاگیا:وَ اِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیۡنِ ﴿۪ۙ80﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اورجب میں بیمارہوں تووہی مجھے شفا دیتا ہے۔(پ19، الشعرآء: 80)
یعنی آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام نے مرض کی اضافت اپنی طرف کی اور شفا کو اللہ عزوجل کی طرف منسوب کیا اس سے اللہ عزوجل کے مرض کے خالق ہونے میں کوئی خرابی نہیں آتی بلکہ آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ و السلام نے تو ادب کی بناء پر دونوں میں فرق کیا کیونکہ اللہ عزوجل کی طرف اچھی خصوصیت ہی منسوب کی جاتی ہے گھٹیا نہیں ۱؎ ۔لہٰذا یہ تو کہا جاتا ہے :''اے مخلوق کے خالق!''۱؎ :صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی شہرۂ آفاق کتاب ''بہار شریعت'' میں فرماتے ہیں:'' بُرا کا م کر کے تقدیر کی طرف نسبت کر نااور مشیّت الٰہی کے حوالہ کرنا بہت بُری بات ہے بلکہ حکم یہ ہے کہ ''جو اچھا کام کرے اسے منجانب اللہ کہے اور جو بُرائی سرزد ہو اس کو شامت نفس تصور کرے ۔'' (بہار شریعت،حصہ ۱،ص۶)