Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
350 - 857
اَصَابَکَ مِنۡ سَیِّئَۃٍ فَمِنۡ نَّفْسِکَ ؕ وَ اَرْسَلْنٰکَ لِلنَّاسِ رَسُوۡلًا ؕ وَکَفٰی بِاللہِ شَہِیۡدًا ﴿79﴾
بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جوبرائی پہنچے وہ تیر ی اپنی طرف سے ہے اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسو ل بھیجا اور اللہ کافی ہے گواہ ۔(پ 5، النسآء:78۔ 79)
ابوعلی جبائی کا غلط استدلال:
    گمراہی میں معتزلہ کا امام ابو علی جبائی کہتاہے :''یہ بات تو ثابت ہے کہسَیِّئَۃٌکا لفظ کبھی مصیبت اور بخشش پر بولا جاتا ہے اور کبھی گناہ و معصیت پر، پھر یہ کہ اللہ عزوجل نے سَیِّئَۃٌکی اضافت پہلے اپنی جانب فرمائی پھر دوسری مرتبہ بندے کی طرف، لہٰذا ان دونوں میں تطبیق ضروری ہے، اس لئے ہم کہتے ہیں کہ جب پہلے معنی کے اعتبار سے سَیِّئَۃٌ کا لفظ اللہ عزوجل کی طرف مضاف ہے تو دوسرے معنی کے اعتبار سے اسے بندے کی طرف مضاف کرنا واجب ہے تا کہ دو متصل آیتوں میں پیدا ہونے والا تناقض زائل ہو جائے۔ جبکہ ہمارے مخالفین نے اپنے آپ کو آیت میں تبدیلی کرنے پر آمادہ کر لیا اور فَمِنْ نَفْسِکَ کو اَفَمِنْ نَفْسِکَ پڑھا یعنی اس میں استفہام کا معنی پیدا کیا اور قرآن میں تبدیلی کر کے قرآن میں دو معنی ہونے کا دعوی کرتے ہوئے رَوافِض کا طریقہ اختیار کیا۔

    اگر یہ کہا جائے کہ اللہ عزوجل نے حَسَنَۃٌ کو اپنی طرف منسوب کیاجو کہ اطاعت ہے اورسَیِّئَۃٌ کو اپنی جانب منسوب نہ کیا، حالانکہ یہ دونوں تمہارے نزدیک بندے کے فعل ہیں(تو اس کا جواب یہ ہے کہ )حَسَنَۃٌیعنی نیکی اگرچہ بندے ہی کا فعل ہے مگر وہ اس تک اللہ عزوجل کے فضل ہی سے پہنچتا ہے ،لہٰذا اس کی اضافت اللہ عزوجل کی طرف درست ہے جبکہ سَیِّئَۃٌ کی اضافت اللہ عزوجل کی طرف نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نہ تو اللہ عزوجل نے برائی کی، نہ اس کا ارادہ فرمایا، نہ اس کا حکم دیا اور نہ ہی رغبت دلائی، لہٰذا مِنْ جَمِیْعِ الْوُجُوْہ اس کی نسبت اللہ عزوجل کی طرف سے ختم ہو گئی۔''
ابوعلی جبائی کا رد:
    ابوعلی جبائی کا کلام اس کی کم فہمی، تنگ نظری اور لاعلمی کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ دونوں مقامات پر سَیِّئَۃٌ اور حَسَنَۃٌسے بالترتیب اطاعت ومعصیت مراد نہیں بلکہ نعمت وآزمائش مراد ہیں اور یہ دونوں چیزیں بندوں کے افعال میں سے نہیں اور اَصَابَکَ کا لفظ ہماری اس بات پر دلیل ہے کیونکہ طاعت ومعصیت کے لئے اَصَابَنِیْ (مجھے گناہ یا نیکی پہنچی) نہیں بولا جاتا بلکہ اَصَبْتُہ، (یعنی میں نے گناہ یا نیکی کی) کہا جاتا ہے، جبکہ نعمت وآزمائش کے لئے بولا جاتا ہے کہ مجھے نعمت پہنچی اور سیاقِ عبارت بھی اسی کی صراحت کرتا ہے، کیونکہ اس آیتِ مبارکہ کا سببِ نزول یہ ہے کہ جب شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مدینہ منورہ میں تشریف لائے
Flag Counter