۹۵۳ہجری سے لیکر ایک طویل عرصے تک میرے دل میں یہ خواہش رہی کہ میں کبیرہ گناہوں سے متعلق ایک ایسی کتاب تا لیف کرو ں جس میں کبیرہ گناہوں کے احکام، ان کی وعیدیں اور ان کے ترک پرکئے گئے اجر وثواب کے وعدوں کو جمع کردوں اور اسے خوب مفَصّل اورکثیردلائل سے آراستہ کروں، مگرمیں ایک قدم اٹھاتا اور دوسرا ہٹا لیتاکیونکہ مکۂ مکرمہ میں میرے پاس اس کتاب کے لئے مواد نہیں تھا، یہاں تک کہ میں امامِ وقت اور اہلِ زمانہ کے اُستاد حافظ ابو عبد اللہ ذھبی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی طرف منسوب کبیرہ گناہوں سے متعلق ایک کتاب پانے میں کامیاب ہوا، مگر اس سے تشنگی نہ مٹی ، کیونکہ انہوں نے اس کتاب میں جتنے اِختصار سے کام لیا ہے وہ ان کے مرتبہ کو ان جیسے لوگوں کے مقابلے میں کمزور کردیتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے اس میں چند احادیث اورحکایات جمع کردیں اور ان کے بارے میں ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے کلام میں گہری نظرنہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ان کے محل میں بھی ذکر نہیں کیا اورنہ ہی اس سلسلے میں اَئمہ متقدمین کے کلام سے مدد لی۔ لہذا کبیرہ گناہوں کی برائی کے ظہور اور اکثر لوگو ں کے ظاہر وباطن میں ان کی پرواہ نہ کرنے جیسے حالات نے مجھے اس کا م پر آمادہ کیا کہ میں ایک ایسی کتاب تالیف کروں، جوکہ ان تمام اُمور پر مشتمل ہو جو میرا مقصود ہیں اور اگر اللہ عزوجل نے چاہا تو یہ کتاب گناہوں سے روکنے کاایک بہت بڑا سبب اور زبردست نصیحت ثابت ہوگی، کیونکہ لوگ زمانہ پرست، لہو ولعب کے پجاری اور اَحکام الٰہیہ عزوجل کواس قدر فراموش کرچکے ہیں کہ ان پر فسق و فجور کی باتیں غالب آ گئی ہیں، نیزوہ ہمیشگی کے گھر سے منہ موڑ کراور دھوکہ و فریب میں مبتلا ہو کرشہوات اور نافرمانیوں کی سرزمین کے باسی بن چکے ہیں، یہاں تک کہ انہیں اللہ عزوجل کی خفیہ تدبیر اور اس کی گرفت کی بھی کوئی پرواہ نہیں رہی حالانکہ وہ جانتے نہیں کہ ان کو اتنی ڈھیل محض اس وجہ سے دی جا رہی ہے کہ وہ اپنی انہی نافرمانیوں کے باعث اللہ عزوجل کے قہر وغضب کے حقدار بنیں۔ اسی لئے میں نے اپنی اس کتاب کا نام