| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
نے حجاب کے پیچھے سے اپنے کلا م سے مشرف فرمایا اس وقت تمہارے اور اللہ عزوجل کے درمیان مخلوق میں سے کوئی قاصد نہ تھا؟'' تو انہوں نے جواب دیا :''ہاں! '' حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ و السلام)نے ارشاد فرمایا:''تو کیا تم نے میری پیدا ئش سے پہلے میرے بارے میں لکھی گئی بات کو اپنی کتاب میں نہ پایا؟'' انہوں نے عرض کی :''ہاں! پایا تھا'' تو حضرت آدم(علیہ الصلوٰۃ و السلام)نے ارشاد فرمایا: ''تو پھر تم مجھے ایسی بات پر کیوں ملامت کرتے ہو جس کے بارے میں اللہ عزوجل نے پہلے ہی سے فیصلہ فرما دیا تھا۔'' اس طرح حضرت آدم(علیہ الصلوٰۃ و السلام) حضرت موسیٰ (علیہ الصلوٰۃ و السلام) پر غالب آ گئے۔
(سنن ا بی داؤد،کتاب السنۃ ،باب فی القدر، الحدیث: ۴۷۰۲،ص۱۵۶۸)
گذشتہ احادیث کے علا وہ بھی قَد ْرِیَہ کے بارے میں کچھ احادیث آئی ہیں جن کومعتزلہ پرمحمول کیا جا سکتا ہے اور اہلِسنت ان گمراہ اور بدعتی لوگوں کے اس قول سے بری ہیں کہ''اہل سنت ہی قَد ْرِیَہ ہیں۔'' (67)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ہر اُمت میں مجوسی ہوتے ہیں اور اس اُمت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں، لہٰذا اگر وہ لوگ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شرکت نہ کرو۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل ،مسند عبداللہ بن عمر بن الخطاب،الحدیث: ۵۵۸۸،ج۲،ص۳۸۹)
(68)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ہر اُمت میں مجوسی ہوتے ہیں اور اس اُمت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں، لہٰذا اگروہ لوگ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شرکت نہ کرو اور وہ دجال کا گروہ ہیں اوراللہ عزوجل ان لوگوں کا حشر دجال کے ساتھ فرمائے گا۔''
(جامع الاحادیث، قسم الاقوال، الحدیث: ۱۷۲۶۹،ج۵،ص۷۳)
(69)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''عنقریب میری اُمت میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل ،مسند عبداللہ بن عمر،الحدیث:۵۶۴۳،ج۲،ص۳۹۹)
مُرْجِئَہ اور قَدْرِیَہ کی مذمت:
(70)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''میری اُمت کے دو گروہ ایسے ہیں جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں وہ مُرْجِئَہ اور قَد ْرِیَہ ہیں۔''
(المعجم الاوسط، الحدیث: ۶۰۶۵،ج۴،ص۳۰۵)