| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
بندے کو جہنم کے لئے پیدا فرماتا ہے تو اس سے جہنمیوں جیسے کام لیتا ہے یہاں تک کہ وہ اہلِ جہنم کے اعمال میں سے کسی عمل پر مرتا ہے اور پھر اس کی وجہ سے جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔''
(سنن ابی داؤد،کتاب السنۃ ،باب فی القدر، الحدیث: ۴۷۰۳،ص۱۵۶۹)
(64)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل نے حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ و السلام) کو پیدا فرمایا تو ان کی پشت سے کچھ مخلوق کو پکڑ کر ارشاد فرمایا :''یہ لوگ جنتی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور یہ جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل ،مسند الشامیین،الحدیث: ۱۷۶۷۶،ج۶،ص۲۰۶)
حضرت سیدنا آدم و موسیٰ علیہماالصلوٰۃالسلام کے درمیان مباحثہ :
(65)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ پروردْگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''حضرت آدم وموسیٰ (علیہما الصلوٰۃ و السلام )میں مباحثہ ہوا تو حضرت موسیٰ (علیہ الصلوٰۃ و السلام )نے فرمایا :''آپ تو وہ ہیں جنہیں اللہ عزوجل نے اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا، آپ میں اپنی جانب سے روح پھونکی، اپنے ملائکہ سے آپ کو سجدہ کروایا اور اپنی جنت میں ٹھہرایا لیکن آپ نے اپنی لغزش کی وجہ سے لوگوں کو جنت سے نکال کر انہیں بدبخت کر دیا۔'' تو حضرت آدم(علیہ الصلوٰۃ و السلام)نے ارشاد فرمایا: ''اے موسیٰ! تم وہ ہو جسے اللہ عزوجل نے اپنی رسالت کے لئے چنا اور تم پر تورات نازل فرمائی تو کیا تم مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جسے اللہ عزوجل نے مجھے پیدا کرنے سے پہلے ہی میرے لئے لکھ دیا تھا۔'' تو اس طرح حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ و السلام) حضرت موسیٰ (علیہ الصلوٰۃ و السلام) پر بحث میں غالب آ گئے۔''
(جمع الجوامع، قسم الاقوال، الحدیث: ۵۷۸،ج۱،ص۱۰۸)
(66)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''حضرت موسیٰ(علیہ الصلوٰۃ و السلام) نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی:'' مجھے حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ و السلام) سے ملوادے۔'' تو جب اللہ عزوجل نے انہیں حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ و السلام)سے ملوایا تو حضرت موسیٰ (علیہ الصلوٰۃ و السلام) نے حضرت آدم(علیہ الصلوٰۃ و السلام) سے عرض کی :''آپ ہی ہمارے باپ آدم (علیہ الصلوٰۃ و السلام)ہیں؟ آپ ہی وہ ہیں جن میں اللہ عزوجل نے اپنی جانب سے روح پھونکی ، آپ کو تمام اسمأ کا علم عطا فرمایا اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ (علیہ الصلوٰۃ و السلام) کو سجدہ کیا؟'' حضرت آدم(علیہ الصلوٰۃ و السلام) نے ارشاد فرمایا:''جی ہاں! '' حضرت موسیٰ (علیہ الصلوٰۃ و السلام) نے کہا:''پھر آپ (علیہ الصلوٰۃ و السلام) کو ہمیں اور اپنے آپ کوجنت سے نکلوانے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟'' تو حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ و السلام) نے پوچھا:''تم کون ہو؟'' انہوں نے بتایا :''میں موسیٰ (علیہ الصلوٰۃ و السلام) ہوں۔''تو حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ و السلام) نے ارشاد فرمایا :''تم بنی اسرائیل کے وہی نبی ہو جنہیں اللہ عزوجل