(73)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''میں چاہتا ہوں کہ تم تقدیر کے بارے میں گفتگونہ کیا کرو۔''۱؎
(تاریخ بغداد،من ذکر اسم محمدبن الحسن،الحدیث:۶۰۸،ج۲،ص۱۸۵)
(74)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''میں چاہتا ہوں کہ تم تقدیر کے بارے میں گفتگونہ کیا کرو اورآخری زمانے میں میری اُمت کے برے لوگ ہی تقدیرکے بارے میں کلام کیا کریں گے۔''
(الکامل فی ضعفاء الرجال ، عبدالرحمن بن القطامی بصری، الرقم ۱۷۴/۱۱۴۱،ج۵،ص۵۰۵)
(75)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قَدْرِیَہ پر 70انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی زبان سے لعنت کی گئی ۔''
(المعجم الاوسط، الحدیث: ۷۱۶۲،ج۵،ص۲۳۰)
(76)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''تقدیر کے منکروں کے پاس نہ بیٹھا کرو اور نہ ہی ان کے ساتھ کلام کی ابتدا کرو۔''
(سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ، باب فی القدر، الحدیث: ۴۷۱۰،ص۱۵۶۹)
(77)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''تقدیر کے بارے میں
۱؎:صدر الشریعہ ،بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی شہرۂ آفاق کتاب ''بہار شریعت''میں فرماتے ہیں: ''قضاو قدر کے مسائل عام عقلوں میں نہیں آسکتے ان میں زیادہ غورو فکر کرنا سبب ہلاکت ہے ۔صدیق و فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرما ئے گئے ماوشماکس گنتی میں۔(یعنی میں اور آپ کس گنتی میں ہیں)۔اتنا سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو مثل پتھر اور دیگر جمادات کے بے حس و حرکت نہیں پیدا کیا ،بلکہ اس کو ایک نوع اختیا ر دیا ہے کہ ایک کام چا ہے کرے ،چا ہے نہ کرے اور اس کے سا تھ ہی عقل بھی دی ہے کہ بھلے برے نفع نقصان کو پہچان سکے اور ہر قسم کے سامان اور اسباب مہیا کر دیئے ہیں کہ جب کو ئی کام کرنا چاہتا ہے اسی قسم کے سامان مہیا ہو جا تے ہیں اور اسی بنا پراس پر مواخذہ ہے ۔اپنے آپ کو بالکل مجبور یا بالکل مختار سمجھنا دونوں گمرا ہی ہیں ۔''