Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
345 - 857
جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔''
 (صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق،باب ذکر الملائکۃ ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۲۰۸،ص۲۶۰،مختصرا)
    اس حدیثِ مبارکہ میں ثُمَّ یعنی '' پھر''کا لفظ ظاہراً ماقبل احادیث کی نفی کر رہا ہے، لہٰذا یا تو یہ وَاؤ یعنی'' اور'' کے معنی میں ہے یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کے مختلف ہونے سے فرشتے کی آمد کی مدت بھی مختلف ہوتی ہے، کچھ بچوں کی طرف فرشتے کو پہلے 40دن مکمل ہونے پر بھیجا جاتا ہے اورکچھ کی طرف تیسرے 40دن مکمل ہونے پر بھیجا جاتا ہے۔ 

(61)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے(ايک دن اپنے دونوں ہاتھوں میں دو کتابيں پکڑ کر) ارشاد فرمایا :''کیا تم جانتے ہو کہ ان دو کتابوں میں کیا ہے؟ یہ کتاب، اللہ عزوجل کی طرف سے ہے اس میں جنتیوں کے، ان کے آبأ اور قبائل کے نام ہیں، پھر ان کے آخر میں اجمالاً ذکر کر دیا ہے لہٰذا نہ ان میں کمی ہو گی نہ زیادتی۔ اور یہ رب العالمین عزوجل کی طرف سے دوسری کتاب ہے اس میں اہلِ جہنم، ان کے آبأ اور قبائل کے نام ہیں، پھران کے آخرمیں ان کااجمالاًذکرکردیا ہے لہٰذا ان میں نہ کبھی کمی ہو گی نہ زیادتی، سیدھے رہو اور میانہ روی اختیار کرو کیونکہ جنتی کا خاتمہ اہلِ جنت کے اعمال پر ہو گا، اگرچہ وہ جیسے بھی عمل کرے اور جہنمی کا خاتمہ جہنمیوں کے اعمال پر ہو گا، اگرچہ وہ جیسے بھی عمل کرے، تمہارا رب عزوجل بندوں کے ایک فریق کے جنتی ہونے اور ایک کے جہنمی ہونے کا فیصلہ فرما چکا ہے ۔''
 (جامع الترمذی،ابواب القدر،باب ماجاء ان اللہ کتب کتابا لاھل الجنۃ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۱۴۱،ص۱۸۶۶ )
 (62)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اچھے عمل کرو، اگر تم مغلوب ہو گئے تو اللہ عزوجل کے لکھے اور اس کی تقدیر سے ہو گے اور اپنے کلام میں اگر کا لفظ شامل نہ کیا کرو کیونکہ جواگرکا لفظ بولتا ہے اس پر شیطان کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔''
       (تاریخ بغداد، ذکر من اسمہ عمار، الحدیث:۶۷۰۳،ج۱۲،ص۲۵۰)
 (63)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل نے حضرت آدم(علیہ الصلوٰۃ و السلام) کو پیدا فرمایا اور ان کی پشت پر (اپنی قدرت کے شايانِ شان) دایاں دستِ قدرت پھیرا (یعنی اس میں اپنی قدرت، برکت اور رحمت سے بھری ذُرِّیَّت پیدا فرمائی) پھراس میں سے ایک قوم کو نکال کر ارشاد فرمایا :''یہ لوگ جنتی ہیں اور یہ جنتیوں جیسے عمل کریں گے۔'' پھر ان کی پشت پر اپنا دستِ قدرت پھیرا تو اس سے ایک قوم نکالی اور ارشاد فرمایا :''میں نے اسے جہنم کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ جہنمیوں جیسے کام کریں گے۔اورجب اللہ عزوجل کسی بندے کو جنت کے لئے پیدا فرماتا ہے تو اس سے جنتیوں جیسے کام لیتاہے یہاں تک کہ وہ جنتی اعمال میں سے کسی عمل پر مرتا ہے اور اس کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور جب اللہ عزوجل کسی
   (شعب الایمان، باب فی حفظ اللسان، فصل فی المزاح ، الحدیث: ۵۲۳۷،ج۴،ص۳۱۶)
Flag Counter