Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
344 - 857
عزوجل! اس کی موت کب ہو گی؟'' تو اللہ عزوجل جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ اسے لکھ لیتا ہے، وہ پھر عرض کرتا ہے :''یا رب عزوجل! اس کا رزق کتنا ہو گا؟''تو تیرا رب عزوجل جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ اسے لکھ لیتا ہے، پھر فرشتہ وہ صحیفہ لے کر نکلتا ہے، تو اس میں نہ کسی چیز کا اضافہ ہوتا ہے اور نہ کمی۔''
 (صحیح مسلم، کتاب القدر، باب کیفیۃ خلق الآدمی۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۷۲۶،ص۱۱۳۸،''شحمھا''بدلہ'' لحمھا'')
 (58)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا حذیفہ بن اُسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ماں کے رحم میں 40راتوں تک نطفہ یونہی رہتا ہے، پھر اسے پیدا کرنے والا (یعنی اس کام پر مقرر) فرشتہ صورت دے دیتا ہے، پھر وہ فرشتہ عرض کرتاہے :''یارب عزوجل! یہ لڑکا ہے یا لڑکی؟'' تو اللہ عزوجل اسے مذکّر یا مؤنّث بنا دیتا ہے، پھر فرشتہ عرض کرتاہے :''یہ تندرست پیدا ہو گا یا معذور؟''تو اللہ عزوجل اسے تندرست یا معذور بنا دیتا ہے، فرشتہ پھر عرض کرتاہے: اس کا رزق کتنا اور موت کاوقت کیا ہو گا؟پھر اللہ عزوجل اسے شقی یا سعید بنا دیتا ہے۔''
 (المرجع السابق،الحدیث:۶۷۲۸،ص۱۱۳۹)
(59)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''رحم میں قرا رپکڑنے کے 40راتیں گزرنے کے بعد ایک فرشتہ نطفے کے پاس آتا ہے اور پھر عرض کرتا ہے:''یارب عزوجل! یہ بدبخت ہو گا یا خوش بخت؟ لڑکا ہو گا یا لڑکی؟'' تو اللہ عزوجل جو کچھ ارشاد فرماتا ہے فرشتہ اسے لکھ لیتا ہے اور وہ فرشتہ اس کے عمل، رزق اور موت کا وقت لکھتا ہے، پھر صحیفہ لپیٹ لیتا ہے اس کے بعد نہ تو اس میں کوئی اضافہ ہوتا ہے نہ ہی کمی ۔''
 (المرجع السابق،الحدیث:۶۷۲۵،ص۱۱۳۸)
 (60)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''تم میں سے کسی ایک کی پیدا ئش کو ماں کے پیٹ میں 40دن تک جمع کیا جاتا ہے، پھر 40دن لوتھڑا بنا رہتا ہے، پھراسی طرح 40دن تک کے لئے مُضْغَہ بن جاتا ہے، پھر اللہ عزوجل اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چارچیزیں لکھنے کا حکم دیتا ہے اوراس سے کہاجاتاہے کہ اس کا عمل، اس کی موت کا وقت، اس کا رزق اور یہ لکھ دوکہ یہ شقی ہو گا یا سعید۔ پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے، بے شک تم میں سے کوئی شخص اہلِ جنت جيسے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت اور اس کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس کی تقدیراس پر غالب آ جاتی ہے تو وہ جہنمیوں جیسے عمل کر کے جہنم میں داخل ہو جاتا ہے، جبکہ ایک شخص جہنمیوں جیسے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو تقدیر اس پرغالب آ جاتی ہے اور وہ اہلِ جنت جیسے عمل کرنے لگتا ہے اور
Flag Counter