Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
343 - 857
 (52)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو تقدیر کے بارے میں کوئی بات کریگا اس سے بروزِ قیامت اس کے بارے میں پوچھا جائے گا، اور جو تقدیر کے بارے میں بات نہ کریگا اس سے نہیں پوچھا جائے گا۔''
              (سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ، باب فی القدر، الحدیث: ۸۴،ص۲۴۸۲)
 (53)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''طاقتور مؤمن بہتر ہے اور کمزور مؤمن کے مقابلے میں اللہ عزوجل کوزیادہ پسندہے اور ہر بھلائی کے معاملے میں اپنے لئے زیادہ نفع بخش چیز کو اختیار کرو، اللہ عزوجل سے مدد چاہواور مدد مانگنے سے عاجز نہ آؤ، اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ مت کہو:''اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ہوتا۔'' بلکہ یہ کہو :''اللہ عزوجل نے ایسا ہی لکھاتھا اور اس نے جو چاہا وہی کیا۔'' کیونکہ:''اگر'' کا لفظ شیطانی عمل کی ابتداء کرتا ہے۔''
 (صحیح مسلم، کتاب القدر، باب الایمان بالقدر۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۶۷۷۴،ص۱۱۴۲)
 (54)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اچھی، بری تقدیر پر ایمان نہ لے آئے، اس بات پر یقین نہ کرے کہ اسے جو مصیبت پہنچنے والی ہے وہ اس سے خطا نہ ہو گی اور جو اس سے خطا ہونے والی ہے وہ اسے نہيں پہنچ سکتی۔''
 (جامع الترمذی، ابواب القدر،باب ماجاء ان الایمان بالقدرخیر۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۱۴۴،ص۱۸۶۷)
 (55)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا :''اے ابوہریرہ! جو کچھ تمہیں پہنچنے والا ہے وہ لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے۔''
 (صحیح البخاری، کتاب النکاح،باب مایکرہ من التبتل۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۵۰۷۶،ص۴۳۹)
 (56)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''مجھے دعوت دینے اور پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے اور (اس کے باوجود) ہدایت میں سے کوئی شئے میرے اپنے بس میں نہیں، جبکہ شیطان کو (خواہشات) آراستہ کر کے پیش کرنے والا بنا کر پیدا کیا گیا لیکن گمراہی کی کوئی بات اس کے بس میں نہیں۔''
 (الکامل فی ضعفاء الرجال،خالد بن عبدالرحمن، الحدیث: ۲۷/۵۹۷،ج۳،ص۴۷۱)
 (57)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب ماں کے پیٹ میں نطفے پر بیالیس 42راتیں گزر جاتی ہیں تو اللہ عزوجل ایک فرشتے کو اس کی طرف بھیجتا ہے، وہ اس کی صورت بناتا ہے اور اس کی سماعت وبصارت، کھال وچربی اور ہڈی پیدا کرتا ہے پھر عرض کرتا ہے یارب عزوجل ! یہ لڑکا ہو گا یا لڑکی؟'' تو اللہ عزوجل جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے اور فرشتہ اسے لکھ دیتا ہے، پھر عرض کرتا ہے ، یارب
Flag Counter