Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
342 - 857
گئی ہے، اللہ عزوجل جسے دوٹھکانوں یعنی جنت اور جہنم میں سے کسی ایک کے لئے پیدا فرماتاہے اسے اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دیتا ہے۔''
                  (المعجم الاوسط،الحدیث:۴۸۷۸،ج۳،ص۳۷۶)

(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند البصریین،الحدیث:۱۹۹۵۶،ج۷،ص۲۱۷)
 (47)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ہر شخص کو جس کام کے لئے پیدا کیا گیا اس کے لئے وہ کام آسان ہوتا ہے۔''
    (المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث ابی الدرداء عویم،الحدیث:۲۷۵۵۷،ج۱۰،ص۴۱۷)
 (48)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو شخص جس کام کے لئے پیدا کیاگیا اس کے لئے وہ کام آسان ہے۔''
 (صحیح البخاری، کتاب التوحید،باب قول اللہ تعالیٰ ولقدیسرناالقرآن۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۷۵۵۱،ص۶۳۰)
 (49)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل نے ایک قوم (کے لوگوں) پر احسان فرمایا تواُنہیں بھلائی کاالہام فرما کر اپنی رحمت میں داخل کر لیا اور ایک قوم(کے لوگوں ) کو آزمائش میں مبتلا فرما کررُسوا کیا اوراُن کے برے کاموں پر ان کی مذمت فرمائی ، جب وہ اس آزمائش سے نکلنے میں کامیاب نہ ہوئے تو اللہ عزوجل نے انہیں عذاب میں مبتلا فرما دیا اوریہ بھی اللہ عزوجل کا ان کے بارے میں عدل ہی ہے۔''
 (جمع الجوامع ، قسم الاقوال،الحدیث:۵۴۷۵،ج۲،ص۲۹۱)
 (50)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اگر اللہ عزوجل آسمان وزمین والوں کو عذاب میں مبتلا فرما دے تب بھی وہ انہیں عذاب دیتے وقت ظالم نہ ہو گا اور اگر ان پر رحم فرمائے تو اس کا ان پر رحم فرمانا ان کے اعمال سے بہتر ہے، اور اگر تم اُحد پہاڑ جتنا سونا راہِ خدا عزوجل میں خرچ کرو تو جب تک تقدیر پر ایمان نہ لے آؤ وہ تمہارا یہ عمل ہر گز قبول نہ فرمائے گا، لہٰذا یقین کر لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچنے والا ہے وہ ہر گز تم سے خطا نہ کریگا، اور جو تم سے خطا ہونے والاہے وہ ہر گز نہ تمہیں پہنچے گا اور اگر تم اس طریقے کے علاوہ مروگے (یعنی تقدیر پر تمہارا ایمان نہ ہو گا) تو جہنم میں داخل ہو گے۔''
 (سنن ابی داؤد،کتاب السنۃ، باب فی القدر، الحدیث: ۴۶۹۹،ص۱۵۶۸)
 (51)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل نے ہر جاندار نفس کا جنت یا جہنم میں ٹھکانا لکھا ہوا ہے، اورسن لو! یہ بھی لکھا ہے کہ وہ خوش بخت ہے یا بدبخت۔'' عرض کی گئی ''توکیا پھر ہم توکل نہ کریں؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''نہیں، بلکہ عمل کرو تقدیر ہی پر تکیہ نہ کرو کیونکہ جسے جس کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کے لئے وہ کام آسان ہوتا ہے، سعادت مندوں کے لئے سعادت والے کام آسان ہیں جبکہ بدبختوں کے لئے بدبختی والے کام آسان ہیں۔''
     (صحیح البخاری ، کتاب الجنائز ، باب موعظۃالمحدث۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۳۶۲،ص۱۰۶)

(سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ، باب فی القدر، الحدیث: ۷۸،ص۲۴۸۲)
Flag Counter