| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(17)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''ہر اُمت میں مجوسی ہوتے ہیں اور اس اُمت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو یہ گمان کرتے ہیں کہ تقدیر کوئی شئے نہیں اور یہ کہ معاملہ از سرِنو والاہے(يعنی چاہے اچھا کام کرو يا برا تقدير کوئی چيز نہيں ) لہٰذا جب تم ان سے ملو تو انہیں خبر دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری۔''
(کنزالعمال،کتاب الایمان ، قسم الاقوال، الحدیث: ۵۵۱،ج۱،ص۷۴،بدون ''ان الامر انف'')
(18)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما نے مزید ارشاد فرمایا :''اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جان ہے! اگر ان میں سے کسی کے پاس اُحد پہاڑ جتنا سونا ہو پھر وہ اسے راہِ خدا عزوجل میں خرچ کر دے تب بھی جب تک وہ اس بات پر ایمان نہ لے آئے کہ اچھی، بری تقدیر اللہ عزوجل کی جانب سے ہے اللہ عزوجل اس کا کوئی عمل قبول نہ فرمائے گا۔''
(المجعم الکبیر، رقم ۷۵۰۲، ج۸، ص ۱۰۳)
(19)۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے مسلم شریف میں مذکورحدیث ِجبرائیل کو ذکر کیا جس کامضمون یہ ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے عرض کی گئی :''ایمان کیا ہے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''ایمان یہ ہے کہ تم اللہ عزوجل، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں،اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لاؤ اور اچھی، بری تقدیر کو مانو۔''
(صحیح مسلم، کتاب الایمان،باب بیان الایمان۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۹۳،ص۶۸۱)
گذشتہ احادیث کے علا وہ بھی تقدیرکے بارے میں بہت سی احادیث ہیں، میں ان کے عظیم فائدے اور عمومی نفع کی بناء پر انہیں یہاں ذکرکرنا پسند کرتاہوں۔ (20)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جس نے تقدیر کو جھٹلایا اس نے میری لائی ہوئی ہر چیز کا انکار کیا۔''
(کنزالعمال،کتاب الایمان ، قسم الاقوال،فصل فی الایمان بالقدر، الحدیث: ۴۸۰،ج۱،ص۶۸)
(21)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو اچھی بُری تقدیر کو نہیں مانتا میں اس سے بیزار ہوں۔''
(مسند ابی یعلی الموصلی، مسند ابی ہریرہ، الحدیث:۶۳۷۳،ج۵،ص۴۵۶)
(22)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''بندہ جب تک چارچیزوں پر ایمان نہ لے آئے مؤمن نہیں ہوسکتا: (۱)اس بات کی گواہی دے کہ اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ عزوجل کا رسول ہوں اس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے (۲)موت پر ایمان لائے، (۳)قیامت کے دن اٹھنے کو مانے اور (۴)اچھی بری تقدیر پر ایمان لائے۔''
(مسند امام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ بن عمرو، الحدیث:۷۰۰۴،ج۲،ص۶۶ ۶) (جامع الترمذی ،ابواب القدر، باب ماجاء فان الایمان بالقدر۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۲۱۴۵،ص۱۸۶۷)