میں صرف رفع پڑھنے کی صورت میں کچھ دقیق معانی بھی سمجھا دیتا ہے کیونکہ اگر یہاں کل پر نصب پڑھا جائے تو معنی فاسد ہو جائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں معنی یہ ہو گا :''انہوں نے ہر وہ کام کیا جو صحیفوں میں ہے۔'' جو کہ خلاف واقع ہے کیونکہ بہت سی ایسی چیزیں بھی صحیفوں میں ہیں جو انہوں نے نہیں کیں جبکہ رفع کی صورت میں معنی یہ ہو گا :''انہوں نے جوکام بھی کیا ہے وہ صحیفوں میں لکھ دیا گیا ہے۔'' جو کہ واقع کے عین مطابق ہے۔
اہلِ سنت کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے اشیأ کو مقدّر فرما دیا یعنی ان کی تقدیریں، ان کے احوال، زمانوں اور ان کے وجود میں آنے سے پہلے ان پر آنے والے احوال کو جان لیا، پھر اپنے سابقہ علم کی بناء پرانہیں وجود بخشا لہٰذا عالم علوی اورسفلی میں جو چیز بھی پیدا ہوگی فقط اس کے علم، قدرت اورارادے ہی سے وجود میں آئے گی۔اوران انواع میں بندوں کے لئے کوئی کسب، محاولہ، اورنسبت واضافت نہیں اوریہ تمام چیزیں تو مخلوق کو اللہ عزوجل کی طرف سے آسانی میسر کرنے، اس کی قدرت اور الہام سے حاصل ہوئی ہیں جیسا کہ کتاب وسنت اس پر دلالت کرتے ہیں، ایسا نہیں جیسا قدریہ وغیرہ افترأ کرتے ہیں کہ اعمال تو ہمارے ہاتھ میں ہیں جبکہ ان کا انجام غیر کے ہاتھ میں ہے۔
(9)۔۔۔۔۔۔جب سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی گئی :''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! ہم پر گناہ لکھ دیئے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان کی وجہ سے عذاب بھی ہو گا؟'' توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''قیامت کے دن تم اللہ عزوجل کے مخالف ہو گے۔''