Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
335 - 857
    علمِ عربی کے لطائف میں سے یہ بھی ہے کہ یہ اس کی جلالت پر دلالت کرنے کے ساتھ ساتھ اس آیت میں رفع اور نصب دونوں اعراب پڑھنے اوراگلی آیت یعنی
کُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْہُ فِی الزُّبُرِ
میں صرف رفع پڑھنے کی صورت میں کچھ دقیق معانی بھی سمجھا دیتا ہے کیونکہ اگر یہاں کل پر نصب پڑھا جائے تو معنی فاسد ہو جائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں معنی یہ ہو گا :''انہوں نے ہر وہ کام کیا جو صحیفوں میں ہے۔'' جو کہ خلاف واقع ہے کیونکہ بہت سی ایسی چیزیں بھی صحیفوں میں ہیں جو انہوں نے نہیں کیں جبکہ رفع کی صورت میں معنی یہ ہو گا :''انہوں نے جوکام بھی کیا ہے وہ صحیفوں میں لکھ دیا گیا ہے۔'' جو کہ واقع کے عین مطابق ہے۔

    اہلِ سنت کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے اشیأ کو مقدّر فرما دیا یعنی ان کی تقدیریں، ان کے احوال، زمانوں اور ان کے وجود میں آنے سے پہلے ان پر آنے والے احوال کو جان لیا، پھر اپنے سابقہ علم کی بناء پرانہیں وجود بخشا لہٰذا عالم علوی اورسفلی میں جو چیز بھی پیدا ہوگی فقط اس کے علم، قدرت اورارادے ہی سے وجود میں آئے گی۔اوران انواع میں بندوں کے لئے کوئی کسب، محاولہ، اورنسبت واضافت نہیں اوریہ تمام چیزیں تو مخلوق کو اللہ عزوجل کی طرف سے آسانی میسر کرنے، اس کی قدرت اور الہام سے حاصل ہوئی ہیں جیسا کہ کتاب وسنت اس پر دلالت کرتے ہیں، ایسا نہیں جیسا قدریہ وغیرہ افترأ کرتے ہیں کہ اعمال تو ہمارے ہاتھ میں ہیں جبکہ ان کا انجام غیر کے ہاتھ میں ہے۔

(9)۔۔۔۔۔۔جب سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی گئی :''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! ہم پر گناہ لکھ دیئے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان کی وجہ سے عذاب بھی ہو گا؟'' توآپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''قیامت کے دن تم اللہ عزوجل کے مخالف ہو گے۔''
(تفسیر قرطبی، سورۃ القمر،تحت الآ یت ۴۸،ج۹،الجز۱۷، ص۱۰۹)
(10)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل کی تقدیر کے منکر اس اُمت کے مجوسی ہیں، جب وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو، مر جائیں تو ان کے جنازے میں نہ جاؤ اور جب ان سے ملو تو انہیں ہر گز سلام نہ کرو۔''
        (سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ، باب فی القدر، الحدیث: ۹۲،ص۲۴۸۳)
(11)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس اور حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''میری اُمت میں دوگروہ ایسے ہیں جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں، وہ مُرْجِئَہ اور قَدْرِیَہ ہیں۔''
             (سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ، باب فی الایمان، الحدیث:۷۳،ص۲۴۸۱)
    مُرْجِئَہ وہ لوگ ہیں جوکہتے ہیں :''ایمان کی موجودگی میں کوئی گناہ نقصان نہیں دیتاجیسے کفر کی صورت میں کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی۔'' اور قَدْرِیَہ کو اللہ عزوجل کا مخالف اس لئے کہا گیا کیونکہ وہ اس بات میں جھگڑ تے ہیں کہ بندوں پر گناہ مقدّر
Flag Counter