| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
میں) کل مبتدا ہے اور خلقنٰہ اس کی یاشیء کی صفت ہے، اور بقدراس کی خبر ہے یعنی کل شیء ،خلق کے ساتھ موصوف ہے اور خلق اپنی ماہیت اور زمانہ میں تقدیر سے متصف ہے۔
اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ جو چیز اللہ عزوجل کی پیدا کردہ نہیں وہ تقدیر سے نہیں اور یہی معتزلہ کا مذہب ہے کہ جو چیز اللہ عزوجل کی مخلوق نہیں وہ اللہ عزوجل کے علا وہ دوسروں کی مخلوق ہے جیسے انسان اپنے افعال کا خالق ہے، جبکہ اسے منصوب پڑھنے کی صورت میں جو کہ مجمع علیہ ہے یہ اللہ عزوجل کے ہر شئے کو خلق فرمانے کے عموم کا افادہ کرتی ہے، کیونکہ تقدیر عبارت یہ ہے کہ''انا خلقنا کل شی خلقناہ''
دوسرا'' خلقناہ'' پہلے خلقنا کی تفسیر اور تاکید ہے کسی شئے کی صفت نہیں، کیونکہ صفت موصوف سے ماقبل شے میں عمل نہیں کرتی، اس لئے یہ کلکے نصب کو ختم نہیں کر سکتی، لہٰذا یہ بات متعین ہو گئی کہ اس کا ناصب یعنی نصب دینے والا پوشیدہ ہے، اور یہ کہ دوسراخلقناہ پہلے کی تفسیر اور تاکید ہے، لہٰذا کل شیء اپنے تمام مخلوق کو شامل ہونے کے عموم پر باقی ہے اوربقدرحال ہے۔ یعنی ہم نے ہر چیز کواس حال میں پیداکیا ہے کہ وہ ہماری تقدیر سے ملی ہوئی ہے یا اپنی ذات وصفات کی مقدار میں ہماری تقدیر سے ملی ہوئی ہے اور یہی اہل سنت وجماعت کا مذہب ہے۔لہٰذا یہ آیتِ مبارکہ اہلِ سنت کے مذہب کے حق ہونے اور معتزلہ کے مذہب کے بطلان پرصریح دلالت کرتی ہے۔
یہاں پر حسبِ عادت رفع کی دلیل کے ضعیف ہونے کی وجہ سے علامہ زمخشری کے تعصب میں شدت پیدا نہیں ہوئی بخلاف اس قوم کے جس کا گمان ہے :''اختیار سے مراد صناعت ہے۔'' بلکہ بعض کا گمان ہے :''عربی میں یہی طریقہ ہے۔'' حالانکہ یہ درست نہیں کیونکہ ان کے نزدیک اس سے فعل کا مطالبہ کیا جاتا ہے، لہٰذا صناعت کے اعتبار سے بھی نصب ہی مختار ہے۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہم یہاں مرفوع پڑھنا تسلیم کر بھی لیں تب بھی اس میں معتزلہ کے لئے کوئی دلیل نہیں کیونکہ خلقناہ جس طرح کل کا وصف ہونے کااحتمال رکھتاہے اسی طرح خبر ہونے کا احتمال بھی رکھتا ہے، اور یہ دونوں خبریں ہیں تویہ وہ افادات ہیں جو عموم کی صورت میں نصب کا فائدہ دیتے ہیں تو جب عموم اور غیرِ عموم کا احتمال پیدا ہو گیا تو اس بات پر دلالت نہ رہی اور عَلیٰ سَبِیْلِ التَّنَزُّل اگر اسے صفت تسلیم کر بھی لیا جائے تب بھی امر کی غایت یہی ہو گی کہ اس سے وہی مفہوم حاصل ہو گا جسے معتزلہ اور اہلسنّت دونوں کے مذہب پر محمول کرنا ممکن ہے کیونکہ ہمارے نزدیک جو مخلوق نہیں وہ اللہ عزوجل کی ذات ہے، اور آیتِ مبارکہ کا یہی مفہوم ہے تو ایسی صورت میں اس بات پر کون سی دلیل ہے کہ اس آیت سے اس معنی کے علاوہ کوئی اور معنی مفہوم یعنی سمجھا جاتا ہو؟ حالانکہ مفہوم کی دلالت تو نہایت ہی ضعیف ہوتی ہے کیونکہ جب ظنیات میں مفہوم کے حجت ہونے میں اختلاف ہے تو آپ کا قطعیات کے بارے میں کیا خیال ہے؟