Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
333 - 857
(3) اَمْ یَحْسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰی مَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ۚ فَقَدْ اٰتَیۡنَاۤ اٰلَ اِبْرٰہِیۡمَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاٰتَیۡنٰہُمۡ مُّلْکًا عَظِیۡمًا ﴿54﴾فَمِنْہُمۡ مَّنْ اٰمَنَ بِہٖ وَمِنْہُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنْہُ ؕ وَکَفٰی بِجَہَنَّمَ سَعِیۡرًا ﴿55﴾
ترجمۂ کنز الایمان:یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتا ب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا اور کسی نے اس سے منہ پھیرا اور دوزخ کا فی ہے بھڑکتی آگ۔(پ5، النسآء:54۔55)

    سیدناامام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:''حق یہ ہے کہ قدری اس شخص کو کہتے ہیں جو تقدیر کا انکار کرتا ہو اور حوادث کو ستاروں کے اتصال کی طرف منسوب کرے، کیونکہ قریش کے بارے میں مروی ہے کہ وہ تقدیر میں جھگڑتے تھے اور ان کا مذہب یہ تھا کہ اللہ عزوجل نے بندے کوا طاعت اور معصیت پر قدرت دی ہے، لہٰذا وہ مخلوق میں یہ صلاحیتیں پیدا کرنے پر قادر ہے اور فقیر کو کھانا کھلانے پر بھی قادر ہے، اسی لئے انہوں نے محتاجوں کو کھانا کھلانے کے معاملہ میں اللہ عزوجل کی قدرت کاانکارکرتے ہوئے یہ کہاتھا :
 اَنُطْعِمُ مَنۡ لَّوْ یَشَآءُ اللہُ اَطْعَمَہٗۤ ٭
ترجمۂ کنز الایمان: کیا ہم اسے کھلائیں جسے اللہ چاہتا تو کھلا دیتا۔(پ23،یٰسۤ:47)

(8)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قَدْرِیَہ اس اُمت کے مجوسی ہیں۔''
             (سنن ابی داؤد،کتاب السنۃ،باب فی القدر،الحدیث:۴۶۹۱،ص۱۵۶۷)
    اس حدیثِ پاک میں اگر اُمت سے مراد اُ مّتِ دعوت ہے تو اس سے مراد آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی حیاتِ ظاہری کے مشرکین ہیں جو حوادث پر اللہ عزوجل کی قدرت کے منکر تھے۔ اس صورت میں معتزلہ اس میں داخل نہ ہوں گے، اور اگر اس سے اُمتِ اجابت مراد ہے تو اس صورت میں قَدْرِیَہ کی ا س اُمت کی طرف نسبت اسی طرح ہے جیسے پچھلی اُمتوں کی طرف مجوس کی نسبت ہے، کیونکہ شبہ کے اعتبار سے یہ تمام اُمتوں میں کمزور اور عقل کی مخالفت کے اعتبار سے سب سے سخت ہیں۔ اسی طرح اس اُمت میں قَدْرِیَہ اوران کا مجوسی ہونا ان کے کفر پر جزم کو ختم نہیں کرتا، لہٰذا حق یہ ہے :''قدری اسی کو کہتے ہیں جو اللہ عزوجل کی قدرت کا انکارکرتاہے۔''

    اللہ عزوجل کافرمان کلاشتغال کی بناء پر منصوب ہے اور قراء تِ شاذ میں اسے رفع کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے مگر چونکہ یہ ایسی چیز کا وہم پیدا کرتا ہے جو اہلِ سنت کے نزدیک جائز نہیں لہٰذا اسے مرفوع پڑھنا مردود ہے، کیونکہ (رفع دینے کی صورت
Flag Counter