| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ ، باب من سنۃ سنۃ حسنۃ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۲۰۸،ص۲۴۹۰)
(6)۔۔۔۔۔۔حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''یہ بھلائی کے کام (آخرت کے) خزانے ہیں اور ان خزانوں کی کچھ کنجیاں بھی ہیں، لہٰذا خوشخبری ہے اس بندے کے لئے جسے اللہ عزوجل اچھائی وبھلائی کی کنجی اور برائی و شر کا تالا بنا دے اورہلاکت ہے اس بندے کے لئے جسے اللہ عزوجل نے برائی کی کنجی اور بھلائی کا تالا بنا دیا ہو۔''
(المرجع السابق،باب من کان مفتاحاًللخیر،الحدیث: ۲۳۸،ص۲۴۹۲)
تنبیہ:
اس گناہ کو ان احادیثِ مبارکہ میں بیان کردہ سخت وعید کی بناء پر کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور وہ وعید گناہوں کا
دُگنا ہونا ہے۔ جو کہ عذاب کے اضافے کا سبب ہے، یہ اضافہ اتنا زیادہ ہو گا کہ حساب اسے شمار میں لانے سے عا جز ہو گا۔
سوال:اگر وہ رائج کردہ معصیت کبیرہ ہو تو بھی اسے کبیرہ گناہ کہنا درست نہیں، اور اگر کبیرہ نہ ہو تو اسے کبیرہ گناہ کہنا اِشکال میں ڈالتا ہے۔
جواب:اسے کبیرہ گنا ہ پر محمول کرنا زیادہ مناسب ہے، اگرچہ میں نے کسی کواس بات کی صراحت کرتے ہوئے نہیں پایا کہ اگر اس نے صغیرہ گناہ رائج کیا تو اس کے کبیرہ ہونے میں کوئی اِشکال نہیں کیونکہ جب اس نے غیر کے لئے اس گناہ کو رائج کیا اور پھر اس میں اس کی پیروی بھی کی گئی تو یہ زیادہ برا ہو گیا اور اس کی سزا بھی دُگنی ہو گئی، اس بناء پر وہ کبیرہ گناہ کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہو گیا کیونکہ کبیرہ کا گناہ تو اس سے فارغ ہونے پر ختم ہو جاتا ہے لیکن اس طرح رائج کردہ گناہ ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے، لہٰذا ثابت ہوا کہ ان دونوں صورتوں میں بہت فرق ہے، پھر میں نے بہت سے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو دیکھا کہ انہوں نے دین میں نئی بات کا اضافہ کرنے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا اور اس صحیح حدیثِ پاک سے استدلال کیا کہ
(7)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''جس نے (دین میں) کوئی نئی بات ایجاد کی اللہ عزوجل اس پر لعنت فرمائے۔''
ابن قیم ۱؎ سے منقول ہے :''یہ لعنت اسی ایجاد شدہ بات کے مختلف ہونے سے مختلف ہو جاتی ہے، جب وہ بات بڑی ہو۱ ؎:ابن قیم ابن تیمیہ کا شاگر د خاص تھا،ان دونوں کے بارے میں امام حافظ ابن حجر ہیتمی مکی شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی کتاب فتاوی حدیثیہ میں فرماتے ہیں: ''ابن تیمیہ اور اس کے شاگر دا بن قیم جوزیہ وغیرہ کی کتابوں میں جوکچھ خرافات ہیں ان سے خودکوبچا کررکھناکیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنالیااور اللہ عزوجل نے جان کر ان کوگمراہیت میں چھوڑ دیا اور ان کے کانوں اور دل پرمُہر لگادی اور...... (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر......................)