Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
324 - 857
اٹھانے سے عاجز تھا، پھر لوگ لگاتار آنے لگے یہاں تک کہ میں نے لباس اور کپڑے کے دو ڈھیر دیکھے اور دیکھا کہ سرکارِ والا تَبار،بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا چہرۂ مبارک ایسے چمک اٹھا جیسے تیل لگا دیا گیا ہو( یعنی جیسے چاندی پر سونے کا پانی چڑھا دیا گیا ہو یہ دونوں خوشی اورسرورکی شدت کی طرف اشارہ ہیں) پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جس نے اسلام میں اچھا طریقہ رائج کیا، اس کے لئے اسے رائج کرنے اور اپنے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا ثواب ہے، اور ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے بھی کچھ کم نہ ہوگا، جس نے اسلام میں برا طریقہ رائج کیا اس پر اس طریقہ کو رائج کرنے اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔''
(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ،باب الحث علی الصدقۃ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۲۳۵۱،ص۸۳۸)
(2)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جس نے اچھا طریقہ جاری کیا، پھر وہ رائج ہو گیا تو اس کے لئے اس کا اپنا اجر اور اس طریقے کی پیروی کرنے والوں کا اجربھی ہے، نیز ان کے اجر میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی، اور جس نے برا طریقہ جاری کیا پھر وہ رائج ہو گیا تو اس پر اپنا گناہ توہے ہی(ساتھ ہی ساتھ ) اس طریقے کی پیروی کرنے والوں کا گناہ بھی ملے گا، نیز ان پیروی کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہ ہو گی۔''
(مجمع الزوائد، کتاب العلم، باب فیمن سن خیراً۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۷۷۰،ج۱،ص۴۰۹)
(3)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے اچھا طریقہ جاری کیا اس کی زندگی اور موت کے بعدجب تک اس طریقے پر عمل کیا جاتا رہے گا اسے اس کا ثواب ملتا رہے گا، اور جس نے برا طریقہ جاری کیا جب تک اسے چھوڑ نہ دیا جائے اسے اس کا گناہ ملتا رہے گا، اور جو جہاد کرتے ہوئے مرے گا قیامت کے دن اٹھنے تک اسے مجاہد کا ثواب ملتا رہے گا۔''
       (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۸۴،ج۲۲،۷۴)
(4)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے میرے (وصال ظاہری کے)بعد میری کسی مٹی ہوئی سنت کو زندہ کیا تو اسے اس سنت پر عمل کرنے والوں کی مثل ثواب ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی، اور جس نے گمراہی والی بدعت ایجاد کی جس سے اللہ عزوجل اور اس کا رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم راضی نہیں تو اسے اس پر عمل کرنے والوں جتنا گناہ ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی۔''
(جامع الترمذی، ابواب العلم، باب ماجاء فی الاخذبالسنۃ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۶۷۷،ص۱۹۲۱)
(5)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے کسی شے کی طرف دعوت دی اسے قیامت کے دن اس کی دی ہوئی دعوت کے ساتھ اتنی دیرکھڑاکیاجائے گاجتنی دیر اس نے وہ دعوت دی ہو گی اگرچہ ایک شخص نے
Flag Counter