ان دونوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنے کی وجہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی وہ صراحت ہے جو ان کے کلام سے ظاہر ہے بلکہ شیخ ابومحمد جوینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں :''مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر جھوٹ باندھنا کفر ہے۔'' جبکہ بعض متاخرین علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:''علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے ایک گروہ کا خیال ہے کہ اللہ عزوجل یا اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر جھوٹ باندھنا ایسا کفر ہے، جو انسان کو ملتِ اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے اور بلاشبہ حرام کو حلا ل یا حلال کو حرام قرار دینے میں اللہ عزوجل یااس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر جھوٹ باندھنا کفرِ محض ہے، جبکہ ہمارا کلام تو حرام کو حلال یا حلال کو حرام ٹھہرانے کے علاوہ معاملہ میں اللہ عزوجل اوراس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر جھوٹ باندھنے کے بارے میں ہے۔
حضرت سیدنا جلال بلقینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ بہت سی احادیثِ مبارکہ میں یہ وعید آئی ہے :''جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکا نا جہنم میں بنا لے۔'' اور علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:''یہ حدیثِ مبارکہ حدِتواتر تک پہنچ چکی ہے۔''
سیدنا بزاررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں :''محدثینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس حدیثِ مبارکہ کو تقریباً 40 صحابہ کرام علیہم الرضوان سے روایت کیا ہے۔'' علامہ ابن صلاح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں :''یہ حدیثِ مبارکہ حدِ تواتر تک پہنچ چکی ہے، 80کے لگ بھگ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت نے اسے روایت کیا ہے۔''
حافظ عسقلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیثِ پاک کی اسناد کو ایک ضخیم جلد میں جمع کیااور ارشاد فرمایا :''70سے زائد صحابہ کرام علیہم الرضوان اس حدیث کے راوی ہیں۔'' اور پھر ان کے راویوں میں عشرہ مبشرہ میں سے حضرت سیدنا عبدالرحمن بن