Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
321 - 857
    حضرت سیدنا حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:''ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر ہم چاہیں گے تو یہ کام کریں گے اور اگر چاہیں گے تو نہیں کریں گے۔''

(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا اسے چاہے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔''
(صحیح البخاری، کتاب العلم، باب اثم من کذب الی۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۱۰،ص۱۲)
    اس حدیثِ مبارکہ کی بہت سی صحیح اسنادہیں جو حدِ تواتر تک پہنچتی ہیں کیونکہ اس کا معنی قطعی طور پرثابت ہے اس لئے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف کوئی بات منسوب کرنے والے نے اگر جھوٹ نہ بولا تب تو واضح ہے کہ وہ سچا ہے، ورنہ بے شک اس نے دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر جھوٹ باندھا اور اس وعید کا مستحق ٹھہرا۔ 

(2)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے میری طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کی حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہے۔''
(صحیح مسلم، مقدمۃ الکتاب ،للامام مسلم، باب وجوب الروایۃ۔۔۔۔۔۔الخ،ص۶۷۴)
(3)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''مجھ پر جھوٹ باندھنا کسی اور پر جھوٹ باندھنے جیسا نہیں، لہٰذا جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔''
(المرجع السابق، باب تغلیظ الکذب۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۵،ص۶۷۴)
(4)۔۔۔۔۔۔ایک مرتبہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دعا فرمائی ''اے اللہ عزوجل! میرے خلفاء پر رحم فرما۔'' ہم نے عرض کی ''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! آپ کے خلفاء کون ہیں؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''جو میرے بعد آئیں گے اور میری احادیث روایت کریں گے اورلوگوں کو بھی سکھائیں گے۔''
(المعجم الاوسط، الحدیث: ۵۸۴۶،ج۴،ص۲۳۹)
(5)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی۔''
  (المعجم الکبیر،الحدیث:۲۳۷،ج۲۲،ص۹۸)
(6)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب کوئی قوم اللہ عزوجل کی کتاب لکھنے اور اس کا آپس میں تکرار کرنے کے لئے جمع ہوتی ہے تو وہ اللہ عزوجل کی مہمان ہوتی ہے اور فرشتے انہیں ان کے
Flag Counter