(23)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو علم کی تلاش میں نکلاوہ واپس لوٹنے تک اللہ عزوجل کی راہ میں ہے۔''
(جامع الترمذی، ابواب العلم، باب فضل طلب العلم،الحدیث:۲۶۴۷،ص۱۹۱۸)
(24)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جواللہ عزوجل کے لئے علم سیکھنے نکلتاہے اللہ عزوجل اس کے لئے جنت کادروازہ کھول دیتا ہے اور ملائکہ اس کے لئے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں اور آسمان کے فرشتے اور سمندر کی مچھلیاں اس کے لئے استغفار کرتی ہیں،مزید ارشاد فرمایا :''عالم کو عا بد پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کو آسمان کے چھوٹے ستارے پر۔''
(شعب الایمان،باب فی طلب العلم،الحدیث: ۱۶۹۹،ج۲،ص۲۶۳)
(25)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے وارث ہیں کیونکہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام درہم ودینار کا وارث نہیں بناتے بلکہ علم کا وارث بناتے ہیں، لہٰذا جس نے علم حاصل کیا اس نے پورا حصہ پا لیا۔''
(سنن ابی داؤد،کتاب العلم، باب فی فضل العلم، الحدیث: ۳۶۴۱،ص۱۴۹۳)
(26)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''عالم کی موت ایسی مصیبت ہے جس کا ازالہ نہیں ہو سکتا اور یہ ایسا خلا ہے جسے پر نہیں کیا جا سکتا گویا وہ ایک ستا رہ تھا جو ماند پڑ گیااورایک قبیلے کی موت عالمِ دین کی موت سے زیادہ ہلکی ہے۔''
(شعب الایمان، باب فی طلب العلم،الحدیث: ۱۶۹۹،ج۲،ص۲۶۴،تقدما تأخرا)
(27)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باذنِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اللہ عزوجل اس شخص کو خوشحال رکھے جس نے میرا کلام سنا پھر اسے یاد کر لیا اور جیسا سنا تھا ویسا ہی آگے پہنچا یا کیونکہ بسا اوقات علم کے حامل کچھ ا فراداپنے سے زیادہ فقیہ لوگوں تک علم پہنچاتے ہیں اور بسا اوقات علم کے حامل کچھ افرادفقیہ نہیں ہوتے۔''
(سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ ، باب من بلغ علماء ،الحدیث: ۲۳۶،ص۲۴۹۱،تقدما تأخرا)
(28)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''تین چیزیں ایسی ہیں جن میں کسی مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا: (۱)اللہ عزوجل کے لئے اخلاص کے ساتھ عمل کرنا، (۲)حکمران کی خیر خواہی اور (۳)جماعت کا لازم پکڑنا، کیونکہ ان کی دُعا رائیگاں نہیں جاتی۔''
(المستدرک،کتاب العلم،الحدیث:۳۰۲،ج۱،ص۲۷۴، بتغیرٍ قلیلٍ)