Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
318 - 857
(۳)مصحف یعنی قرآن کریم جسے ورثہ میں چھوڑا (۴)مسجد بنائی(۵)مسافرکے لئے مکان بنادیا(۶)نہر جاری کر دی اور (۷)اپنی زندگی اورصحت میں اپنے مال سے ایسا صدقہ نکالا جو اُسے موت کے بعد بھی ملتا رہے۔''
 (سنن ابن ماجہ، ابواب السنۃ ، باب ثواب معلم الناس خیرا،الحدیث:۲۴۲،ص۲۴۹۲)
 (17)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''آدمی اپنے بعد جو بہترین چیزیں چھوڑتا ہے وہ یہ 3چیزیں ہیں: (۱)نیک بچہ جواس کے لئے دعا کرے(۲)صدقہ جاریہ جس کا اجر اسے ملتا رہے اور (۳)وہ علم جس پراس کے بعدبھی عمل کیا جاتا رہے۔''
           (المرجع السابق، الحدیث: ۲۴۱،ص۲۴۹۲)
 (18)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اس اُمت کے علماء دو طرح کے فرد ہیں: (۱)وہ شخص جسے اللہ عزوجل نے علم عطا فرمایا تو اس نے اسے لوگوں کے لئے خرچ کیا اور اس کے عوض نہ تو کوئی خواہش پوری کی اور نہ ہی اس کے بدلے مال خریدا، یہی وہ شخص ہے جس کے لئے سمندر کی مچھلیاں، خشکی کے جانور اور فضاء میں پرندے استغفار کرتے ہیں (۲) وہ شخص جسے اللہ عزوجل نے علم عطا فرمایا تو اس نے اسے اللہ عزوجل کے بندوں سے چھپایا، اس کے ذریعے خواہش پوری کی اور مال خریدا، یہی وہ شخص ہے جسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائی جائے گی اور ایک منادی ندا دے گا:''یہ وہ شخص ہے جسے اللہ عزوجل نے علم عطا فرمایا تو اس نے اسے اللہ عزوجل کے بندوں سے چھپا لیا اور اس کے ذریعے خواہشات پوری کیں اور مال خریدا۔'' اُس کے حساب سے فارغ ہونے تک یہی نداء ہوتی رہے گی۔''
(المعجم الاوسط، الحدیث: ۷۱۸۷،ج۵، ص۲۳۷)
 (19)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''عالم کو عابد پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی فضیلت مجھے تمہارے ادنیٰ شخص پر حاصل ہے،اوربے شک اللہ عزوجل، اس کے فرشتے اور زمین وآسمان والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے سوراخوں میں اور مچھلیاں پانی میں لوگوں کوخیر سکھانے والے کی بھلائی کی خواہاں رہتی ہیں۔''
 (جامع الترمذی، ابواب العلم، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ،الحدیث:۲۶۸۵،ص۱۹۲۲)
 (20)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العٰلمین، جنابِ صادق و امین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل قیامت کے دن علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ سے ارشاد فرمائے گا:میں نے اپناعلم اورحلم تمہیں اسی لئے دیاتھا کہ میں تمہاری خطائیں معاف کرنے کاارادہ رکھتا تھا اورمجھے کوئی پرواہ نہیں۔''
        (الآلیئ المصنوعۃ،کتاب العلم، ج۱،ص۲۰۲،مفہومًا)
    اس حدیث پاک میں علم اورحلم کی اللہ عزوجل کی طرف اضافت ان علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے باعمل اورمخلص ہونے کی صراحت کرتی ہے۔    

(21)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''علم دو طرح کے ہیں،وہ علم جو دل میں
Flag Counter