Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
317 - 857
غورو فکر کرنا اور دین کی سب سے افضل چیز تقویٰ یعنی پرہیزگاری ہے۔''
 (مجمع الزاوئد،کتاب العلم، باب فی فضل العلم، الحدیث:۴۷۹،ج۱،ص۳۲۵)
 (12)۔۔۔۔۔۔حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے بہتر ہے اور تمہارے دین کا بہترین عمل پرہیزگاری ہے، جو شخص کسی راستے پر علم کی تلاش میں نکلتا ہے اللہ عزوجل اس کی وجہ سے اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرمادیتا ہے، بے شک فرشتے طالب علم سے خوش ہو کر اس کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، عالمِ دین کے لئے زمین وآسمان والے یہا ں تک کہ پانی میں مچھلیاں بھی استغفار کرتی ہیں، عالم کو عابد پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی چاند کو دیگر ستاروں پرہے، علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے وارث ہیں، انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام درہم ودینارکا وارث نہیں بناتے بلکہ وہ توعلم کا وارث بناتے ہیں، لہٰذا جس نے علم حاصل کیا اس نے پورا حصہ پا لیا۔''
 (جامع الترمذی، ابواب العلم، باب ماجاء فی فضل الفقہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۶۸۲،ص۱۹۲۲)

(المستدرک،کتا ب العلم، باب فضل العلم ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۲۰،ج۱،ص۲۸۳)
 (13)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: '' یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! میں علم حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''طالبِ علم کو مرحبا(يعنی کشادہ دلی سے خوش آمديد )! بے شک طالب علم کو فرشتے اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں، پھر وہ طالب علم سے طلبِ علم کی وجہ سے محبت کرتے ہوئے قطار درقطارآسمانِ دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔''
       (المعجم الکبیر،الحدیث:۷۳۴۷،ج۸،ص۵۴)
 (14)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اے ابوذر! تيرا صبح کے وقت کتاب اللہ عزوجل کی ایک آیت سیکھنے کے لئے نکلنا تیرے لئے 100رکعت ادا کرنے سے بہتر ہے اور تيرا صبح کے وقت علم کا ایک باب سیکھنے کے لئے نکلنا خواہ تواس پرعمل کرے یا نہ کرے تيرے لئے 1000رکعت ادا کرنے سے بہتر ہے۔''
 (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ ، باب ثواب معلم الناس خیرا،الحدیث:۲۱۹،ص۲۴۹۰)
 (15)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''دنیا ملعون ہے اوراللہ عزوجل کے ذکر، اس کے ولی یعنی دوست اور دینی علم پڑھنے اور پڑھانے والے کے سوااس کی ہرچیزبھی ملعون ہے۔''
 (سنن ابن ماجہ،ابواب الزھد ، باب مثل الدنیا،الحدیث:۴۱۱۲،ص۲۷۲۷)
 (16)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''موت کے بعدمؤمن کواس کے عمل اور نیکیوں میں سے جو چیزیں حاصل ہوتی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں: (۱)اس کا وہ علم جو اس نے پھیلایا(۲)نیک بچہ چھوڑ کر مرا
Flag Counter