Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
316 - 857
 (5)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دعا مانگی ''خدایا!میں وہ زمانہ نہ پاؤں یا (اے میرے صحابہ) تم وہ زمانہ نہ پاؤ کہ جس میں عالم کی پیروی اور حلیم (یعنی بردبار)سے حیانہ کی جائے گی، اس زمانے کے لوگوں کے دل عجمیوں کے اور زبان عربوں کی ہو گی۔''
        (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند الانصار،الحدیث: ۲۲۹۴۲،ج۸،ص۴۴۳)
 (6)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''برکت تمہارے اکابر کے ساتھ ہے۔''
       (المستدرک،کتاب الایمان،باب البرکۃ مع الاکابر،الحدیث:۲۱۸،ج۱،ص۲۳۸)
 (7)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باذنِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' جوبڑے کی عزت نہ کرے، چھوٹے پر رحم نہ کرے، نیکی کا حکم نہ دے اوربرائی سے منع نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔''
 (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ بن عباس،الحدیث: ۲۳۲۹،ج۱،ص۵۵۴)
 (8)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اور ہمارے بڑوں کاحق نہ پہچانا وہ ہم میں سے نہیں۔''
 (جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ، باب ماجاء فی رحمۃ السیان،الحدیث:۱۹۲۰،ص۱۸۴۵)
تنبیہ:
    مندرجہ بالا احادیث کے ظاہر کے اعتبار سے اسے گناہِ کبیرہ کہا گیا ہے اور یہ قیاس کے طور پر بعید بھی نہیں اگرچہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں کیا کیونکہ جس طرح انہوں نے غیبت کے معاملہ میں علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اور دیگر لوگوں میں تفریق کی ہے اسی طرح استخفاف یعنی حقوق کے ہلکا جاننے کے معاملہ میں بھی ان میں فرق ہے، عنقریب اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو ایذا دینے کے بیان میں اس بارے میں صریح احادیث آئیں گی کیونکہ وہ حقیقتًاباعمل علما ء ہی ہیں۔

(9)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتاہے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا فرماتاہے۔''
    (المعجم الکبیر،الحدیث: ۸۷۵۶،ج۹،ص۱۵۱)
 (10)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' جب اللہ عزوجل کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تواسے دین میں فقیہ بنا دیتا ہے اور رشد وہدایت الہام فرما دیتا ہے۔ ''
 (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند الشامیین،الحدیث:۱۶۸۸۰،ج۶،ص۲۳،بدون ''ألہمہ رشدہ'')
 (11)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''سب سے بڑی عبادت فقہ یعنی دین میں
Flag Counter