| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
اجْعَلْنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرْضِ ۚ اِنِّیۡ حَفِیۡظٌ عَلِیۡمٌ ﴿55﴾
ترجمۂ کنز الایمان:مجھے زمین کے خزانوں پرکردے بے شک میں حفا ظت والا علم والا ہوں۔(پ13، یوسف:55)
اسی طرح اگر کوئی جاہل یادشمنی رکھنے والا اس کے علم کا انکار کر دے تو اسے اس آیتِ مبارکہ سے استدلال کرتے ہوئے اپنے علم کے بارے میں بتانے کااختیار ہے تا کہ اس دشمنی رکھنے والے کی ناک خاک میں مل جائے اور لوگ اسے قبول کرتے ہوئے اس کے علوم سے نفع اٹھائیں۔کبیرہ نمبر47 : علمائے کرام رحمھم اللہ تعالیٰ وغیرہ کے حقوق
ضائع کرنا اور انہیں ہلکا جاننا(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''تین شخص ایسے ہیں جن کے حقوق کومنافق ہی ہلکا جانے گا: (۱)جسے اسلام میں بڑھاپا آیا (۲)عالمِ دین اور (۳)انصاف پسند بادشاہ۔''
(المعجم الکبیر، الحدیث: ۷۸۱۹،ج۸،ص۲۰۲)
(2)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے ہمارے بڑوں کی عزت نہ کی، ہمارے چھوٹوں پررحم نہ کیا اور ہمارے علماء (کے حقوق) نہ پہچانے وہ میری اُمت میں سے نہیں۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند الانصار،الحدیث: ۲۲۸۱۹،ج۸،ص۴۱۲)
(3)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کی وہ ہم میں سے نہیں۔''
(جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ، باب ماجاء فی رحمۃ السیان،الحدیث:۱۹۲۰،ص۱۸۴۵)
(4)۔۔۔۔۔۔سرکارِمدینہ ،قرارِقلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''علم سیکھو، علم کے لئے سکینہ (یعنی اطمینان )اور وقار سیکھو اور جس سے علم سیکھواس کے لئے تواضع اور عاجزی بھی کرو۔''
(المعجم الاوسط،الحدیث:۶۱۸۴،ج۴،ص۳۴۲)