Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
312 - 857
(13)۔۔۔۔۔۔حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ہر علم اپنے جاننے والے پر وبال ہے سوائے اس کے جو اس پر عمل کرے۔''
 (مجمع الزاوئد،کتاب العلم،باب من علم فلیعمل،الحدیث:۷۴۹،ج۱،ص۴۰۳)
(14)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب اس عالم کو ہو گا جس کے علم نے اسے نفع نہ دیا ہو گا۔''
(شعب الایمان،باب فی نشر العلم، الحدیث: ۱۷۷۸،ج۲،ص۲۸۵)
(15)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے اسلامی احکام سکھانے کے لئے قیس قبیلے کے ایک محلے میں بھیجا، میں جب وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ وہ لوگ جنگلی اونٹوں کی طرح نظریں بلند رکھنے والے تھے، ان کی فکروں اور سوچوں کا محور صرف بکریاں اور اونٹ تھے، تو میں دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ عالیشان میں لوٹ آیا، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے استفسار فرمایا :''اے عمار! تم نے کیا کیا؟'' تومیں نے اس قوم کی حالت اور غفلت بھی بیان کر دی، توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اے عمار! کیا میں تمہیں ان سے بھی زیادہ تعجب انگیز لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ قوم جو ایسی تمام باتیں جانتی تھی جن سے یہ لوگ ناواقف ہیں لیکن پھر بھی وہ ان کی طرح غافل ہو گئی۔''
 (مجمع الزاوئد،کتاب العلم، باب لم ینتفع بعلمہ،الحدیث: ۸۷۳،ج۱،ص۴۴۱)
(16)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''مجھے اپنی اُمت کے کسی مؤمن یا مشرک کے بارے میں اندیشہ نہیں، مؤمن کی حفاظت تو اس کا ایمان کریگا جبکہ مشرک کا کفر ہی اسے ذلیل ورسوا کر ے گا مگر مجھے تم پر زبان کے تيزطراز( یعنی گھما پھرا کر باتیں کرکے دھوکا دینے والے) منافق کاخوف ہے جو باتیں ایسی کریگا جنہیں تم پسند کرو گے اورعمل ایسے کریگا جنہیں تم ناپسند کرو گے۔''
           (المعجم الاوسط،الحدیث:۷۰۶۵،ج۵،ص۲۰۰)
(17)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''مجھے اپنے بعد تم پر ہر اس منافق کا خوف ہے جو( گُھما پھرا کر)گفتگوکرنے کا ماہر ہو ۔''
            (المعجم الکبیر،الحدیث:۵۹۳،ج۱۸،ص۲۳۷)
 (18)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''مجھے گمان ہے کہ آدمی اپنے کسی معلوم گناہ کی وجہ سے اسی طرح علم بھول جاتاہے جیسے اسے یاد کرتا ہے۔''
 (الترغیب والترہیب، کتاب العلم، باب الترہیب من ان یعلم ولا بعمل۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۲۲۷،ج۱،ص۹۵)
 (19)۔۔۔۔۔۔منصوربن زاذان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے خبرملی ہے :''جہنم میں کچھ ایسے لوگ داخل کئے جائیں گے جن کی بدبو سے دیگر جہنمیوں کوایذاء پہنچے گی تو اس جہنمی سے پوچھا جائے گا تيرا ستيا ناس ہو تو کون سا عمل کرتا تھا؟کیا ہم پر پہلے کم
Flag Counter