Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
311 - 857
تک قدم نہ ہٹاسکے گا جب تک اس سے یہ چارسوالات نہ کرلئے جائیں:(۱)اپنی عمرکن کاموں میں گزاری(۲)اپنے علم پر کتنا عمل کیا(۳)مال کس طرح کمایا اور کہاں خرچ کیا اور (۴)اپنے جسم کو کن کاموں میں بوسیدہ کیا۔''
(جامع الترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ، باب فی القیامۃ، الحدیث: ۲۴۱۷،ص۱۸۹۴)
(7)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار،باذنِ پروردگار عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''قیامت کے دن بندہ اس وقت تک قدم نہ اُٹھا سکے گا جب تک اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرلیاجائے: (۱)عمر کن کاموں میں گزاری (۲)جوانی کن کاموں میں صرف کی(۳)مال کہا ں سے کمایا اور (۴)کہاں خرچ کیااور (۵)اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا۔''
(المرجع السابق،الحدیث: ۲۴۱۶)
(8)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''کچھ جنتی لوگ جہنمیوں کی طرف جائیں گے تو ان سے پوچھیں گے تم جہنم میں کس وجہ سے داخل ہوئے، حالانکہ اللہ عزوجل کی قسم! ہم تو تمہاری ہی تعلیم سے جنت میں داخل ہوئے ہیں۔'' تو وہ کہیں گے ہم جو بات کہا کرتے تھے اس پر خود عمل نہیں کرتے تھے۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۴۰۵،ج۲۲،ص۱۵۰)
(9)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو بندہ لوگوں کووعظ ونصیحت کرتا ہے اللہ عزوجل اس سے پوچھ گچھ ضرور فرمائے گا۔'' راوی کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ یہ بھی ارشاد فرمایا :''یہ ضرور پوچھے گا کہ تو نے اس وعظ سے کیا نیت کی تھی۔''
 (شعب الایمان،باب فی نشر العلم، الحدیث: ۱۷۸۷،ج۲،ص۲۸۷)
(10)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا جعفر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا مالک بن دینار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب بھی یہ حدیثِ مبارکہ سناتے تو رو پڑتے، پھر جب افاقہ ہوتا تو ارشاد فرماتے :''تم لوگ یہ گمان کرتے ہو کہ تمہارے سامنے وعظ کرنے سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں حالانکہ میں جانتا ہوں کہ اللہ عزوجل قیامت کے دن مجھ سے پوچھے گا کہ تیرا وعظ سے مقصود کیا تھا؟''

(11)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے دریافت کیا گیا:''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! بدترین لوگ کون ہیں؟'' تو آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جواب میں دعا فرمائی ''اے اللہ عزوجل ! مغفرت فرما۔'' پھر ارشاد فرمایا کہ ''اچھوں کے بارے میں پوچھا کرو بروں کے بارے میں دریافت نہ کیا کرو، بدترین لوگ بُرے علماء ہیں۔''
(البحرالزخار لمسند البزار، مسند معاذ بن جبل، الحدیث: ۲۶۴۹،ج۷،ص۹۳)
(12)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''لوگوں کو علم سکھانے اور اپنے آپ کو بھول جانے والے کی مثال اس چراغ کی سی ہے جو لوگوں کو تو روشنی دیتاہے جبکہ اپنے آپ کو جلاتا ہے۔''
 (العجم الکبیر، الحدیث:۱۶۸۱، ج۲،ص۱۶۶)
Flag Counter