ان احادیثِ مبارکہ سے ظاہرشدیدوعیدوں کی بناء پر اس گناہ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔
سوال:وعید کی شدت تو اسی وقت ہو گی جب کوئی شخص واجبات کو ترک کرے یا حرام کام کا ارتکاب کرے، علم پر مطلق عمل نہ کرنا مراد نہیں، اگرچہ مستحبات کا ترک اور مکروہات پر عمل ہو۔ اس صورت میں اگر اُن کا یہ بیان مان لیا جائے کہ علم پر عمل نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے تو پھر اسے ایک الگ کبیرہ گناہ شمار کرنا درست نہ ہو گا جیسا کہ فرض نماز کو ترک کرنا وغیرہ بھی ایک کبیرہ گناہ ہے اور (ان شاء اللہ عزوجل )ایسے گناہوں کا بیان آگے آئے گا۔
جواب:اس کی توجیہ ممکن ہے اگرچہ میں نے کسی کواس بات کی وضاحت کرتے ہوئے نہیں پایا کہ علم ہونے کے باوجود گناہ کرنا جہالت میں گناہ کرنے سے زیادہ برا ہے جیسا کہ احادیثِ مبارکہ بھی اس کی تائید کرتی ہیں۔نیزحرمِ مکہ میں گناہ کے بیان میں اس کی نظیرآئے گی کیونکہ مکہ مکرمہ کا شرف ومرتبہ اسی بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس میں کیا جانے والا گناہ زیادہ فحش ہو، اگرچہ وہ گناہ صغیرہ ہی کیوں نہ ہو۔ لہٰذا عالم جب صغیرہ گناہوں میں مبتلا ہو تو وہ بھی باقی افراد کے صغیرہ گناہوں سے زیادہ فحش شمار کیا جائے گا اور یہ بات بعید بھی نہیں کیونکہ اس کا یہ صغیرہ گناہ ایک واسطے سے کبیرہ ہی بن جاتا ہے وہ اس طرح کہ وہ ان علوم و معارف کوجانتا ہے جو اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ مکروہات سے بھی رک جائے چہ جائیکہ محرمات کا ارتکاب کرے۔