(صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء، باب فی الادعیہ، الحدیث: ۶۹۰۶،ص۱۱۵۰)
(2)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قیامت کے دن ایک شخص کو لا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا تو اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی اور وہ ان کے گرد اس طرح گھومے گا جس طرح گدھا اپنی چکی کے گرد گھومتا ہے، تو جہنمی اس کے گرد جمع ہو کر پوچھیں گے اے فلاں! تجھے کیا ہوا؟ کیا تو ہمیں نیکی کی دعوت نہ دیتا تھا اور کیا توہمیں برائی سے منع نہ کرتا تھا؟'' تو وہ کہے گا: ''میں تمہیں تو نیکی کی دعوت دیا کرتا تھا مگر خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا اور تمہیں تو برائی سے منع کرتا تھا مگر خود برائی میں مبتلا رہتا تھا۔''
(صحیح البخاری ،کتاب بدء الخلق ،باب صفۃ النار وانھا مخلوقۃ،الحدیث:۳۲۶۷،ص۲۶۴)
(3)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''زَبَانِیَۃ (جہنم پرمؤکل فرشتوں کی ایک جماعت) فاسق قاریوں کی طرف بت پرستوں سے بھی پہلے جائے گی تو وہ کہیں گے :''کیا بت پرستوں سے پہلے ہم سے ابتداء کی جا رہی ہے ؟''تو ان سے کہا جائے گا:''جاننے والے نہ جاننے والوں کی طرح نہیں۔''
(الترغیب والترہیب، کتاب العلم، باب الترہیب من ان یعلم۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۲۱۰،ج۱،ص۹۱)
حافظ منذری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں :اس حدیث پاک کے''غریب ' 'ہونے کے باجود اس کی''شاہد'' موجود ہے اور ریاکاری کے بیان میں ایک صحیح روایت گزرچکی ہے کہ،
(4)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قیامت کے دن سب سے پہلے اس شخص کو بلایا جائے گا جس نے قاری کہلانے کے لئے قرآن یاد کیا ہو گا۔'' حدیث مبارکہ کے آخری الفا ظ یہ ہیں ''یہ تین شخص اللہ عزوجل کی مخلوق میں وہ پہلا گروہ ہوں گے جن کے ذریعے قیامت کے دن جہنم کو بھڑکایا جائے گا۔''
(5)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو قرآن پاک کی حرام کردہ اشیاء کو حلال سمجھے اس کا قرآن پاک پر ایمان ہی نہیں۔''
(جامع الترمذی، ابواب فضائل القرآن، باب من قرأ القرآن۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۲۹۱۸،ص۱۹۴۴)
(6)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قیامت کے دن بندہ اس وقت