دیگر یعنی اس کے علاوہ دوسرے افراد ہوں تو اب اگر وہ بات فرضِ عین ہو یا اس کے حکم کا تعلق ان سے ہو تو اس کو ظاہرکرنا واجب ہے وگرنہ اس کا اظہار مستحب ہے جب تک کہ اس کا حصول کسی ناجائز ذریعہ سے نہ ہو۔
حاصل کلام یہ ہے کہ علم سکھانا چونکہ علم کا وسیلہ ہے پس واجب کے معاملہ میں علم کا اظہار واجب، فرضِ عین کے معاملہ میں فرضِ عین، فرضِ کفایہ کا علم سکھا نا فرضِ کفایہ، مستحب کا علم سکھانا مستحب ہے جیسے عروض وغیرہ کا علم اور اسی طرح حرام چیز کا علم سکھانا بھی حرام ہے جیسے جادو اور شعبدہ بازی وغیرہ۔
بعض مفسرینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :''کافر کو قرآن پاک سکھانا جائز نہیں اور نہ ہی کوئی دینی علم سکھانا جائزہے یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائے، اسی طرح اہلِ حق سے مناظرہ کرنے کے لئے بدعتی کو مناظرہ یا دلائل سکھانا بھی جائز نہیں، نہ ہی فریقین میں سے ایک کو دوسرے کا مال دبا لینے کے لئے حیلہ سکھانا جائز ہے اوراسی طرح جاہلوں کوگناہوں کے ارتکاب اور واجبات چھوڑنے کے طریقوں میں رخصتیں بیان کرنا بھی جائزنہيں۔
(9)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''حق داروں سے علم روک کر ان پرظلم نہ کرو اور نااہلوں کو حکمت سکھا کر ان پر ظلم نہ کرو۔''