Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
309 - 857
دیگر یعنی اس کے علاوہ دوسرے افراد ہوں تو اب اگر وہ بات فرضِ عین ہو یا اس کے حکم کا تعلق ان سے ہو تو اس کو ظاہرکرنا واجب ہے وگرنہ اس کا اظہار مستحب ہے جب تک کہ اس کا حصول کسی ناجائز ذریعہ سے نہ ہو۔

    حاصل کلام یہ ہے کہ علم سکھانا چونکہ علم کا وسیلہ ہے پس واجب کے معاملہ میں علم کا اظہار واجب، فرضِ عین کے معاملہ میں فرضِ عین، فرضِ کفایہ کا علم سکھا نا فرضِ کفایہ، مستحب کا علم سکھانا مستحب ہے جیسے عروض وغیرہ کا علم اور اسی طرح حرام چیز کا علم سکھانا بھی حرام ہے جیسے جادو اور شعبدہ بازی وغیرہ۔ 

    بعض مفسرینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :''کافر کو قرآن پاک سکھانا جائز نہیں اور نہ ہی کوئی دینی علم سکھانا جائزہے یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائے، اسی طرح اہلِ حق سے مناظرہ کرنے کے لئے بدعتی کو مناظرہ یا دلائل سکھانا بھی جائز نہیں، نہ ہی فریقین میں سے ایک کو دوسرے کا مال دبا لینے کے لئے حیلہ سکھانا جائز ہے اوراسی طرح جاہلوں کوگناہوں کے ارتکاب اور واجبات چھوڑنے کے طریقوں میں رخصتیں بیان کرنا بھی جائزنہيں۔

(9)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''حق داروں سے علم روک کر ان پرظلم نہ کرو اور نااہلوں کو حکمت سکھا کر ان پر ظلم نہ کرو۔''
(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی،سورۃ البقرۃ،تحت الآیۃ:۱۵۹،ج۱، ص۱۴۱)
(10)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''خنزیروں کے گلے میں موتیوں کے ہار نہ ڈالو۔'' یعنی نااہلوں کوفقہ نہ سکھاؤ۔
 (تاریخ بغداد،الحدیث۴۹۰۷،ج۹،ص۳۵۶ )
    (علامہ ابن حجرہیتمی علیہ رحمۃ اللہ الولی فرماتے ہیں)کافرکے بارے میں جواحکام مذکورہوئے وہ ہمارے قواعد کے مطابق درست نہیں کیونکہ جس کافرکے اسلا م لانے کی اُمید ہو اسے ہمارے نزدیک قرآن سکھانا جائز ہے لہٰذا علم سکھانا بدرجۂ اَوْلیٰ جائز ہے۔

(11)۔۔۔۔۔۔ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور نااہل کو علم سکھانے والا خنزیر کے گلے میں جواہرات، موتیوں اور سونے کا ہار پہنانے والے کی طرح ہے۔''
(سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ ، باب فضل العلماء۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث:۲۲۴،ص۲۴۹۱)
Flag Counter