پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم منبر شریف سے نیچے تشریف لے آئے، تو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے (ايک دوسرے سے) استفسار فرمايا کہ ''آپ کے خیال میں رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان لوگوں سے کون سے لوگ مرادلئے ہیں؟'' تو دوسروں نے انہیں بتایا :''ان سے مراد اَشعری قبیلہ والے ہیں کیونکہ وہ فقہاء کی قوم ہے اور ان کے پڑوسی جفاکار اعرابی ہیں۔''
جب یہ بات اشعریوں تک پہنچی تو وہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضرہوئے اور عرض کی: ''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ایک قوم کی بھلائی اور ایک کی برائی کا ذکر فرمایا، ہم ان میں سے کس میں ہیں؟'' توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''چاہے کہ ایک قوم اپنے پڑوسیوں کو ضرور دین سکھائے، انہیں سمجھائے، نصیحت کرے، نیکی کی دعوت دے اور برائی سے منع کرے، اسی طرح دوسری قوم کو چاہے کہ اپنے پڑوسیوں سے دین سیکھے، سمجھے اور ان سے نصیحت طلب کرے ورنہ جلد دنیا میں ہی اس کا انجام بھگتے گی۔'' انہوں نے دوبارہ عرض کی ''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! کیا ہم دوسرے لوگوں کو نصیحت کریں؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے یہی بات دہرائی، انہوں نے پھر یہی عرض کی ''کیا ہم دوسروں کونصیحت کریں۔'' تو شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''ہاں ایسا ہی ہے۔'' انہوں نے پھر عرض کی ''ہمیں ایک سال کی مہلت دیجئے۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے انہیں ایک سال کی مہلت عطا فرما دی تا کہ یہ لوگوں کو دین سکھائیں اور نصیحت کریں، پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: