صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت مثلا ًحضرت سیدنا جابر، حضرت سیدنا انس، حضرت سیدنا ابن عمر، حضرت سیدنا ابن مسعود، حضرت سیدنا عَمْرُو بْنُ عَنْبَسَہ اور حضرت سیدنا علی بن طلق وغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے یہ حدیثِ مبارکہ مروی ہے جبکہ حضرت سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے :''جس سے علم کی ایسی بات پوچھی گئی جس کے ذریعے اللہ عزوجل لوگوں کو دینی معاملہ میں نفع پہنچاتا ہے۔''
(سنن ابن ماجہ، ابواب السنۃ ، باب من سئل من علم فکتمہ ، الحدیث:۲۶۵،ص۲۴۹۳)
(5)۔۔۔۔۔۔حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب اس اُمت کے لوگ اگلوں پر لعنت کرنے لگیں اس وقت جو ایک حدیث چھپائے تو گویا اس نے اللہ عزوجل کا نازل کردہ حکم چھپایا۔''
(سنن ابن ماجہ، ابواب الطھارۃ، باب من سئل من علم فکتمہ ، الحدیث:۲۶۳،ص۲۴۹۳)
(6)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''علم حاصل کرنے کے بعد اسے بیان نہ کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جوخزانہ جمع کرتاہے پھراس میں سے کچھ بھی خرچ نہیں کرتا۔''
(المعجم الاوسط،الحدیث ۶۸۹،ج۱،ص۲۰۴)
(7)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''علم کے معاملہ میں ایک دوسرے کی خیرخواہی چاہوکیونکہ تم میں سے کسی کا اپنے علم میں خیانت کرنا اپنے مال میں خیانت کرنے سے زیادہ سخت ہے اور اللہ عزوجل تم سے اس کے بارے میں ضرورپوچھ گُچھ فرمائے گا۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث۱۱۷۰۱،ج۱۱،ص۲۱۵)
(8)۔۔۔۔۔۔ایک دن دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے خطبہ ارشا د فرمایا اور مسلمانوں کے کچھ گروہوں کی تعریف فرمائی، پھر ارشاد فرمایا :''ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اپنے پڑوسیوں کو نہیں سمجھاتے نہ سکھاتے ، نہ نیکی کی دعوت دیتے اور نہ ہی برائی سے منع کرتے ہیں، اور ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اپنے پڑوسیوں سے نہیں سیکھتے، نہ ان سے سمجھتے اور نہ ہی نصیحت طلب کرتے ہیں، اللہ عزوجل کی قسم! چاہے کہ ایک قوم اپنے پڑوسیوں کو ضرور دین سکھائے ، سمجھائے، نصیحت کرے اور نیکی کی دعوت دے، اسی طرح دوسری قوم کو چاہے کہ اپنے پڑوسیوں سے دین سیکھے، سمجھے اور نصیحت حاصل کرے ورنہ جلد ہی انہیں اس کا انجام بھگتنا پڑے گا۔''