ترجمۂ کنز الایمان:گھیرے میں تیررہا ہے۔(پ:23، یٰسۤ: 40)
(3) اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خَاضِعِیۡنَ ﴿4﴾
ترجمۂ کنز الایمان:کہ ان کے اونچے اونچے اس کے حضورجھکے رہ جائیں۔(پ19، الشعرآء:4)
ایک قول یہ ہے :''ان سے مراد مؤمن جنات اور انسانوں کے علاوہ ہرچیز ہے۔'' اسی طرح بعض مفسرینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے ان سے مراد ملائکہ، انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیائے عظام رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ کو قرار دیا ہے، مگر سیدنا زجاج رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ملائکہ اورمؤمنین والے قول کو درست کہا ہے۔اور امام قرطبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کا جواب اس طرح دیا ہے کہ ابن ماجہ میں یہ روایت موجود ہے کہ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باذنِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اَللاَّعِنُوْنَ یعنی لعنت کرنے والوں کی تفسیر زمین کے رینگنے والے جانوروں سے کی ہے۔
حضرت سیدنا حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:''ان سے مراد اللہ عزوجل کے تما م بندے ہیں۔'' بعض کا کہنا ہے کہ یہ آیتِ مبارکہ علم چھپانے کے کبیرہ گناہ ہونے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے اس پر لعنت کو واجب کیاہے اور پسِ پشت ڈال دینا شدید اعراض کرنے سے کنایہ ہے جبکہ ثَمَنٌ قَلِیْلٌ سے مراد وہ مال ہے جسے وہ لوگ علم میں سردارہونے کی وجہ سے اپنے ماتحتوں سے وصول کرتے تھے۔''فَبِئْسَ مَایَشْتَرُوْنَ'' کامعنی ہے کہ ان کی خریداری بہت بری ہے اور اس میں ان کا نقصان بھی ہے۔
علم چھپانے کی وعید میں بہت سی احادیث بھی آئی ہیں:
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جس سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپایا تو اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا۔''
(سنن ابن ماجہ،ابواب الطھارۃ، باب من سئل من علم فکتمہ ، الحدیث:۲۶۴،ص۲۴۹۳)
(2)۔۔۔۔۔۔ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو شخص کسی علم کو زبانی یاد کرے اور پھر اسے لوگوں سے چھپائے تو وہ قیامت کے دن آگ کی لگام پہن کرآئے گا۔''
(سنن ابن ماجہ،ابواب الطھارۃ ، باب من سئل من علم فکتمہ ،الحدیث:۲۶۱،ص۲۴۹۳)