| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آیتِ مبارکہ سے استدلال کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :''اگر یہ اور اس جیسی دوسری آیاتِ مبارکہ نہ ہوتیں تو ہر گز اتنی کثرت سے روایات بیان نہ ہوتیں۔'' (۱)اللہ عزوجل مزید ارشاد فرماتاہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکْتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ مِنَ الْکِتٰبِ وَیَشْتَرُوۡنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۙ اُولٰٓئِکَ مَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمْ اِلَّا النَّارَ وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیۡہِمْ ۚۖ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿174﴾اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالْہُدٰی وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَۃِ ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَہُمْ عَلَی النَّارِ ﴿175﴾
ترجمۂ کنز الایمان:وہ جوچھپا تے ہیں اللہ کی اتاری کتاب اوراس کے بدلے ذلیل قیمت لے لیتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں اوراللہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کریگا اورنہ انہیں ستھرا کرے اوران کے لئے درد ناک عذاب ہے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی اوربخشش کے بدلے عذاب توکس درجہ انہیں آگ کی سہا ر(برداشت ) ہے۔(پ2، البقرۃ:174۔175)
(2) وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِیۡثَاقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوۡنَہٗ ۫ فَنَبَذُوۡہُ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوۡنَ ﴿187﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اوریاد کروجب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا ہوئی کہ تم ضروراسے لوگوں سے بیان کردینا اورنہ چھپانا توانہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اوراس کے بدلے ذلیل دام حاصل کیے تو کتنی بری خریداری ہے۔(پ4، اٰل عمران:187)
یہ دونوں آیتیں اگرچہ سرکارِ والا تَبار،بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اوصاف چھپا نے کی وجہ سے یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئیں مگر چونکہ اعتبار الفاظ کے عموم ہی کا ہوتا ہے جیسا کہ ہم ثابت کر چکے ہیں۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ مذکورہ آیتِ مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص عقلی دلائل کے محتاج کے سامنے دین کے ارکان کو عقلی دلائل سے مزین کر کے بیان کرنے پر قادر ہو پھر بھی بیان نہ کرے یا حاجت کے باوجود احکامِ شرع میں سے کوئی بات چھپائے تو اسے یہ وعید لاحق ہو کر رہے گی۔
لغت میں لعْنَۃ کے معنی دوری کے ہیں اور شرع میں رحمت سے دوری کو لَعْنَۃ کہتے ہیں۔ لعنت کرنے والے زمین کے چوپائے اور حشرات (یعنی کیڑے مکوڑے) ہیں، وہ کہتے ہیں :''بنی آدم کے گناہوں کی وجہ سے ہم سے بارش روک دی گئی۔''