| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
اس گناہ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنے کی وجہ بعض متاخرین علمائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، شاید انہوں نے اس میں وارد ہونے والی سخت وعید کو دیکھتے ہوئے اسے ریاکاری سے علیحدہ کبیرہ گناہ شمار کیا اور ان احادیث کی طرف نظر نہ کی جو ریا کاری اور دنیا کمانے کے لئے علم حاصل کرنے کی مذمت کے بیان میں وارد ہوئیں لہٰذا ان دونوں میں عموم وخصوص مطلق کی نسبت ہے۔
کبیرہ نمبر44: علم چھپانا
اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکْتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْہُدٰی مِنۡۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَلۡعَنُہُمُ اللہُ وَیَلْعَنُہُمُ اللّٰعِنُوۡنَ ﴿159﴾
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ جوہماری اتا ری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کوچھپاتے ہیں بعد اس کے کہ لوگوں کے لئے ہم اسے کتاب میں واضح فرماچکے ان پراللہ کی لعنت ہے اورلعنت کرنے والوں کی لعنت۔(پ2، البقرۃ:159)
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اورمفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی ایک جماعت کے نزدیک یہ آیتِ مبارکہ نصاریٰ کے حق میں نازل ہوئی۔
ایک قول یہ ہے کہ یہ یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ وہ تورات میں موجودنور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اوصاف چھُپاتے تھے۔
جبکہ ایک قول یہ ہے کہ یہ (حکم میں) عام ہے اوریہی درست ہے کیونکہ الفاظ کے عموم کا اعتبار ہوتا ہے سبب کے خصوص کا نہیں کیونکہ حکم کو مناسب وصف پر مرتب کرنا علت بیان کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دین چھپانا یقینا لعنت کے استحقا ق کے مناسب ہے، لہٰذا وصف کے عام ہونے کی صورت میں حکم کا عموم ثابت ہو جائے گا۔
نیز صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت نے اس آیتِ مبارکہ کے عموم کی صراحت بھی کی ہے جیسا کہ اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ارشاد فرمایا :''دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اللہ عزوجل کے نازل کردہ احکامات میں سے کچھ بھی نہیں چھپایا۔''