Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
303 - 857
(7)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے اللہ عزوجل کے علاوہ کسی کے لئے علم سیکھا یا اُس علم سے اللہ عزوجل کے علاوہ کسی کی رضاکا ارادہ کيا تو وہ اپناٹھکانا جہنم میں بنا لے۔''
(جامع الترمذی،ابواب العلم،باب فیمن یطلب بعلمہ الدنیا، الحدیث: ۲۶۵۵،ص۱۹۱۹)
(8)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''عنقریب میری اُمت کے کچھ لوگ دین میں تفقہ حاصل کریں گے اورقرآن پڑھیں گے اورکہیں گے :''ہم اُمراء کے پاس جاتے ہیں تا کہ ان سے ان کی دنیا پائیں اورہم اپنے دین کواُن سے جدا رکھتے ہیں۔'' لیکن ایسا نہ ہوگا بلکہ جس طرح کسی کانٹے دار درخت سے کانٹے ہی حاصل ہوتے ہیں اسی طرح وہ ان کے قریب سے گناہ ہی چن سکیں گے۔''
        (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،باب الانتفاع بالعلم والعمل بہ،الحدیث:۲۵۵،ص۲۴۹۳)
    محمدبن صباح فرماتے ہیں:''سوائے  گناہوں کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔'' 

(9)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے لوگوں کے دلوں کواپنے جال میں پھانسنے کے لئے عمدہ گفتگوسیکھی، اللہ عزوجل قیامت کے دن نہ اس کی فرض عبادت قبول فرمائے گا اور نہ ہی نفل۔''
(سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب ماجاء فی التشدق فی الکلام، الحدیث:۵۰۰۶،ص۱۵۸۹)
(10)۔۔۔۔۔۔ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا؟ جب تم پر ایک ایسی آزمائش آئے گی جس میں شیر خوار بچے بڑے ہو جائیں گے ، جوان بوڑھے ہو جائیں گے اور لوگ ایک سنت کو اپنائیں گے، اگر کسی دن اس میں سے کچھ چھوڑ دیا گیا تو کہا جا ئے گا سنت ترک کر دی گئی۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:''ایسا کب ہو گا؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''جب تمہاری آرزوئیں کم ہو جائیں گی اور امرأ زیادہ ہو جائیں گے، تمہارے فقہاء کم اور قاری زیادہ ہو جائیں گے، علمِ دین غیراللہ کے لئے سیکھا جائے گا اور آخرت کے عمل سے دنیا کو طلب کیا جائے گا۔''
 (المصنف لعبدالرزاق،باب الفتن، الحدیث: ۲۰۹۰۸،ج۱۰،ص۳۰۸،لغیراللہ بدلہ''لغیرالدین'')
(11)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے بھی آئندہ آنے والے ایک فتنے کا تذکرہ کیا تو حضرت سیدنا عمرفاروق ِاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: ''اے علی! ایسا کب ہو گا؟'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :''دین کو چھوڑ کر دوسرے علوم میں مہارت حاصل کی جائے گی ، علم کو عمل کے علاوہ کسی اورمقصد کے لئے حاصل کیا جائے گا اور آخرت کے عمل سے دنیا طلب کی جائے گی۔''
       (المرجع السابق، الحدیث: ۲۰۹۰۹،ص۳۰۹)
Flag Counter