| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(2)۔۔۔۔۔۔ایک اور روایت میں ہے :''جب اللہ عزوجل نے ابلیس لعین کے ساتھ خفیہ تدبیر فرمائی تو حضرت سیدنا جبرائیل اور حضرت سیدنا میکائیل (علیہما الصلوٰۃ و السلام)رونے لگے، اللہ عزوجل نے ان سے استفسار فرمایا(حالانکہ وہ بخوبی جانتا تھا) تم دونوں کو کس چیز نے رلایا ہے؟'' تو انہوں نے عرض کی ،''یارب عزوجل! ہم تیری خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں۔'' تو اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا :''ایسے ہی رہو میری خفیہ تدبیر سے بے خوف مت ہونا۔''
(تفسیرروح المعانی، سورۃ النمل ، تحت الآیۃ:۱۰،ج۱۹،ص۲۱۷)
(3)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے:
یَامُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ! ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ۔
یعنی اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کواپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔''
(جامع الترمذی، ابواب الدعوات، باب دعاء''یا مقلب القلوب'' الحدیث:۳۵۲۲،ص۲۰۱۴)
(4)۔۔۔۔۔۔ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی ''یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کیا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم خوف رکھتے ہیں؟''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''دل رحمن عزوجل کی (قدرت کی)دو انگلیوں کے درمیان ہے، وہ جیسے چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے۔''
(کنزالعمال، کتاب الایمان، قسم الاقوال، فصل الثالث، الحدیث:۱۲۱۲/۱۲۱۳،ج۱،ص۱۳۳)
یعنی قلوب اللہ عزوجل کے خیر وشر کے ارادوں کے دو مظہروں کے درمیان ہیں، وہ انہیں اس تیز ہَوا سے بھی جلد پھیر دیتا ہے جو قبول ومردود اور پسند و ناپسند وغیرہ اوصاف میں پھرتی رہتی ہے، اورقرآن پاک میں ہے:
وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہٖ
ترجمۂ کنزالایمان : اور جان لو کہ اللہ کاحکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجاتاہے۔(پ9، الانفال:24)
یعنی اس کے اور اس کی عقل کے درمیان یہاں تک کہ وہ یہ نہیں جان پاتا کہ وہ کیاکررہاہے۔ یہ حضرت سیدنامجاہد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا قول ہے اور اس کی تائید اللہ عزوجل کایہ فرمانِ عالیشان بھی کرتا ہے :اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنۡ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک اس میں نصیحت ہے اس کے لئے جو دل رکھتاہو۔(پ26، ق:37)
یہاں قلب سے مراد عقل ہے اور سیدناامام طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مختار مذہب یہ ہے اس حائل ہونے سے مراد بندوں کو یہ خبر دینا ہے کہ وہ ان کے دلوں کاان سے زیادہ مالک ہے اور وہ جب چاہتاہے ان کے اور ان کے دلوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ کوئی بھی اللہ عزوجل کی مشیّت کے بغیرکچھ نہیں جان پاتا۔''
(5)۔۔۔۔۔۔جب دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم یہ دعا مانگتے:''یَامُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ! ثَبِّتْ قَلْبِیَ عَلٰی
ترجمۂ کنز الایمان:اورقیامت کے دن تم دیکھوگے انہیں جنہوں نے اللہ پرجھوٹ باندھا کہ ان کے منہ کالے ہیں۔(پ 24,الزمر: 60)