| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(یعنی اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کواپنے دین پر ثابت قدم رکھ) تو اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی ''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کثرت سے یہ دعا مانگتے ہیں کیا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو بھی کوئی خوف ہے؟'' تو رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''میں بے خوف کیسے رہ سکتا ہوں، حالانکہ قلوب رحمن عزوجل کی(قدرت کی) انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں، وہ جب اپنے کسی بندے کے دل کو پھیرنا چاہتا ہے پھیر دیتاہے۔''
بے شک اللہ عزوجل نے پختہ علم والوں کی اس دعاپران کی تعریف فرمائی:رَبَّنَا لَا تُزِ غْ قُلُوۡبَنَا بَعْدَ اِذْ ہَدَیۡتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحْمَۃً ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الْوَہَّابُ ﴿8﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اے رب ہمارے دل ٹیرھے نہ کربعد اس کے کہ تونے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطاکربے شک تو ہے بڑادینے والا۔(پ3، اٰل عمران:8)
یاد رکھئے ! اس آیتِ مبارکہ میں معتزلہ کے عقائد کے رد اور اہل سنت کے اعتقاد کی حقیقت پرظاہر دلالت اور واضح حجت ہے کہ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا اللہ عزوجل کی مخلوق اور اس کے ارادے سے ہیں، اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ دل خیرو شر اور ایمان وکفر کی طرف مائل ہونے کی صلاحیت رکھتاہے، لیکن اس کا ان میں سے کسی کی طرف کسی داعی کے بغیرمائل ہونا محال ہے بلکہ اس کے مائل ہونے کے لئے کسی ایسے داعی اور ارادے کا ہونا ضروری ہے جسے اللہ عزوجل ہی عدم سے وجود میں لاتا ہے۔ کفرکے دواعی کے لئے قرآن پاک میں مدد چھوڑ دینا، بھٹکانا، منہ پھیرنا، مہر لگنا، زنگ آلود ہونا، دل کاسخت ہونا، کان بھر جانا وغیرہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جبکہ ایمان کے دواعی کے لئے قرآن مجید میں توفیق، ارشاد، ہدایت، تسدید، ثابت قدمی اور عصمت وغیرہ کے الفاظ واردہوئے ہیں۔ (6)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''مؤمن کادل رحمن عزوجل کی (قدرت کی) انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جب وہ اسے قائم رکھنا چاہتا ہے تو قائم رکھتاہے اور جب بھٹکانا چاہتا ہے تو راہِ حق سے بھٹکا دیتا ہے۔''
(کنزالعمال، کتاب الایمان، قسم الاقوال، فصل الثالث، الحدیث:۱۱۶۴،ج۱،ص۱۲۸،بدون''قلب المؤمن'')
گذشتہ بیان کی گئی اس اوردیگر احادیث مبارکہ میں دو انگلیوں سے مراد یہی مذکورہ دواعی ہیں، لہٰذا اس میں خوب غور کرنا چاہے۔ (7)۔۔۔۔۔۔اللہ عزوجل کی خفیہ تدبیرکا خوف دلانے کے لئے سیدعالم،نورمجسّم،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کایہ فرمان عالیشان بھی ہے :''تم میں سے کوئی جنتیوں والے عمل کرتاہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک گز کافاصلہ رہ جاتا