(2) وَ ذٰلِکُمْ ظَنُّکُمُ الَّذِیۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّکُمْ اَرْدٰىکُمْ فَاَصْبَحْتُمۡ مِّنَ الْخٰسِرِیۡنَ ﴿23﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اوریہ ہے تمہارا وہ گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا اور اس نے تمہیں ہلاک کردیا تو اب رہ گئے ہارے ہوؤں میں۔(پ24، حٰمۤ السجدۃ:23)
(1)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''جب تم کسی بندے کو دیکھو کہ اللہ عزوجل اسے اس کی خواہش کے مطابق عطا فرماتاہے حالانکہ وہ اپنے گناہ پر قائم ہے تو یہ اللہ عزوجل کا اُسے درجہ بدرجہ عذاب ميں مبتلا کر نا ہے پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:
فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیۡہِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ حَتّٰۤی اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذْنٰہُمۡ بَغْتَۃً فَاِذَا ہُمۡ مُّبْلِسُوۡنَ ﴿44﴾
ترجمۂ کنزالایمان :پھر جب انہو ں نے بھلادیا جو نصیحتیں ان کو کی گئیں تھیں ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اس پر جو انہیں ملاتو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیااب وہ آس ٹو ٹے رہ گئے۔(پ7، الانعام:44)
(المعجم الاوسط، الحدیث:۹۲۷۲،ج۶،ص۴۲۲)
یعنی وہ نجات اور ہر بھلائی سے مایوس ہیں اور ان پر نعمتوں کی بارش ہونے اور دوسروں کی ان سے محرومی سے دھوکا کھانے کی وجہ سے ان کے لئے حسرت، غم اور رسوائی ہے۔اسی لئے حضرت سیدنا حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''اللہ عزوجل جس پر وسعت فرمائے اوروہ یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ اللہ عزوجل کی خفیہ تدبیر ہے، تو وہ بالکل بے عقل ہے۔''
اورایک ناشکری قوم کے بارے میں فرمایا:''رب کعبہ کی قسم! اللہ عزوجل نے ان کے ساتھ خفیہ تدبیر فرمائی ان کی مرادیں پوری فرمائیں پھر ان پر پکڑ فرمائی۔''