Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
290 - 857
حسنہ کو جمع فرما دیا ہے ''مؤمن اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرتا ہے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔''
(البخاری،کتاب الایمان، باب من الایمان ان یحب ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۱۳،ص۳)
    نیز مؤمن اپنے اسلامی بھائی کو ہمیشہ اپنے مہمان اور پڑوسی کی عزت کرنے کا ہی حکم دے گا اور اس کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ بات کریگا تو صرف بھلائی کی، ورنہ خاموش رہے گا۔

(106)۔۔۔۔۔۔نبئ کریم،رء وف رحیم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جب کسی مؤمن کو پروقار انداز میں خاموشی کا پیکر پاؤ تو اس کی قربت حاصل کیا کرو کیونکہ وہ (جب بھی بولے گا تو) صرف حکمت آموز باتیں ہی کہے گا۔''
 (احیاء علوم الدین،کتاب ریاضۃ النفس وتہذیب الاَخلاق،بیان علامات حسن الخلق،ج۳،ص۸۵،یلقی بدلہ''یلقن'')
 (107)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی طرف ایسی نگاہ سے اشارہ کرے جو اسے اَذیت دینے والی ہو۔''
 (احیاء علوم الدین،کتاب آداب الآ لفۃ۔۔۔۔۔۔الخ،حقوق المسلم،ج۲،ص۲۴۳)
 (108)۔۔۔۔۔۔نبئ کریم،ر ء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو ڈرائے۔''
 (سنن ابی داؤد،کتاب الادب، باب من یأخذ الشیء من مزاح،الحدیث: ۵۰۰۴،ص۱۵۸۹)
 (109)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''شرکاء مجلس اللہ عزوجل  کےامین ہوتے ہیں تو ان میں سے کسی کے لیے جائز نہیں کہ اپنے بھائی کی وہ بات ظاہر کرے جس کا ظاہر کرنا اسے ناپسند ہو۔''
   (الزہد لابن المبارک،باب ماجاء فی الشح،الحدیث۶۹۱،ص۲۴۰،اخیہ بدلہ''صاحبہ'')
    کسی صاحبِ علم نے حسنِ اخلاق کی تمام علامات کو اپنے اس قول میں یوں جمع کر دیا ہے:'' حسنِ اخلاق کا پیکر وہ ہے جوحد سے زیادہ حیا والا ہو، بہت کم کسی کو اذیت دے، نیکیوں کا جامع ہو، سچ بولے، گفتگوکم اور عمل زیادہ کرے اور وقت بھی کم ضائع کرے نیز بہت کم لغزش کاشکار ہو، وہ نیک، پروقار، صابر، راضی بقضائے الٰہی عزوجل ، شکر گزار، بردبار، نرم دل، پاکدامن اور شفیق ہو نہ کہ عیب جُو، گالیاں دینے والا، غیبت کرنے والا، جلدباز، کینہ پرور، بخیل اور حاسد ہو بلکہ ہشاش بشاش رہتا ہو اللہ عزوجل کی خاطر محبت اور بغض رکھے، اللہ عزوجل کی ہی خاطر کسی سے راضی یا ناراض ہو تو وہی شخص حسنِ اخلاق کا پیکر کہلانے کا حق رکھتا ہے ۔''

    اللہ عزوجل ہمیں ان اعلیٰ اخلاق کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم پر ہمیشہ اپنے فضل وکرم کی بارش نازل فرمائے، ہمیں اپنے قرب کی دولت سے سرفراز فرمائے اور اپنے اولیاء کرام، محبین عِظام اور غلاموں کی صف میں شامل فرما لے۔ آمین!
Flag Counter