Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
289 - 857
لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا ﴿64﴾وَالَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ ٭ۖ اِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا ﴿٭ۖ65﴾اِنَّہَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ﴿66﴾وَالَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمْ یُسْرِفُوۡا وَلَمْ یَقْتُرُوۡا وَکَانَ بَیۡنَ ذٰلِکَ قَوَامًا ﴿67﴾ وَالَّذِیۡنَ لَا یَدْعُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوۡنَ النَّفْسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوۡنَHوَ مَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا ﴿ۙ68﴾یُّضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ یَخْلُدْ فِیۡہٖ مُہَانًا ﴿٭ۖ69﴾اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ ؕ وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿70﴾وَ مَنۡ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوۡبُ اِلَی اللہِ مَتَابًا ﴿71﴾وَالَّذِیۡنَ لَا یَشْہَدُوۡنَ الزُّوۡرَ ۙ وَ اِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغْوِ مَرُّوۡا کِرَامًا ﴿72﴾وَالَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوۡا عَلَیۡہَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا ﴿73﴾وَالَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیۡنَ اِمَامًا ﴿74﴾اُولٰٓئِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ بِمَا صَبَرُوۡا وَ یُلَقَّوْنَ فِیۡہَا تَحِیَّۃً وَّ سَلٰمًا ﴿ۙ75﴾خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ﴿76﴾قُلْ مَا یَعْبَىؤُا بِکُمْ رَبِّیۡ لَوْلَا دُعَآؤُکُمْ ۚ فَقَدْ کَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُوۡنُ لِزَامًا ﴿٪77﴾
جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کیلئے سجدے اور قیام میں، اور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب! ہم سے پھیر دے جہنم کا عذاب بیشک اس کا عذاب گلے کا غل(پھندا) ہے، بیشک وہ بہت ہی بری ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں،اوروہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کوجس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا، بڑھایا جائے گا اس پر عذاب قیامت کے دن اور ہمیشہ اس میں ذلت سے رہے گا، مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے، اور جو توبہ کرے اور اچھا کام کرے تو وہ اللہ کی طرف رجوع لایا جیسی چاہیے تھی، اور جوجھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب بیہودہ پر گزرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں، اور وہ کہ جب کہ انہیں ان کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں تو ان پر بہرے اندھے ہو کر نہیں گرتے، اور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں دے ہماری بیبیوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا، ان کو جنت کا سب سے اونچا بالا خانہ انعام ملے گا بدلہ انکے صبر کا اور وہاں مجرے اور سلام کے ساتھ انکی پیشوائی ہو گی، ہمیشہ اس میں رہیں گے کیا ہی اچھی ٹھہرنے اور بسنے کی جگہ، تم فرماؤ تمہاری کچھ قدر نہیں میرے رب کے یہاں اگر تم اسے نہ پوجوتوتم نے جھٹلایا تو اب ہو گا وہ عذاب کہ لپٹ رہے گا۔(پ19،الفرقان:63تا77)

    جس شخص پر اپنے نفس کی حالت مشتبہ ہو جائے تو اسے ان آیاتِ کریمہ کا بغور مطالعہ کرنا چاہے اور پھرغورکرے کہ آیاان آیات میں مذکور اوصافِ حمیدہ مجھ میں پائے جاتے ہیں یا نہیں،کیونکہ ان تمام اوصاف کا پایا جانا حسنِ اخلاق اور نہ پایا جانا بداخلاقی کی علامت ہے، اور بعض کا پایا جانا بعض عادات پر ہی دلالت کرتاہے نہ کہ مکمل اخلاقِ حسنہ پر۔

(105)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں ان تمام اخلاقِ
Flag Counter