اِن صفات کی پہچان صرف نورِبصیرت ہی سے ہو سکتی ہے، لہٰذا جب اس نورہی کو حرص اور حسد ڈھانپ ليں تو انسان اندھا ہو جاتا ہے تو ایسے وقت میں شیطان انسان پر قابو پا لیتا ہے۔
(98)۔۔۔۔۔۔منقول ہے حضرت سیدنانوح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شیطان کواپنے ساتھ کَشتی میں سوار پایا تو اس سے پوچھا : ''تو کیوں داخل ہوا؟'' تو اس نے جواب دیا: ''اس لئے کہ آپ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالوں تا کہ ان کے دل میرے ساتھ ہو جائیں اور جسم آپ (علیہ الصلوٰۃ والسلام)کے ساتھ رہ جائیں۔'' تو آپ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے ارشاد فرمایا: ''اے اللہ عزوجل کے دشمن! سفینے سے اُتر جا کیونکہ تو مردود ہے۔'' تو شیطان نے کہا''میں لوگوں کو پانچ چیزوں سے ہلاکت میں ڈالتا ہوں، تین چیزیں تو آپ(علیہ الصلوٰۃ والسلام) کو ابھی بتا سکتا ہوں صرف دو نہیں بتاؤں گا۔''تواللہ عزوجل نے حضرت سیدنا نوح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی طرف وحی فرمائی :'' شیطان سے کہو کہ وہ دوچیزیں آپ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کوبتا دے اور تین چیزوں کی مجھے کوئی حاجت نہیں۔'' آپ(علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے اس سے پوچھا:''وہ دو چیزیں کون سی ہیں؟'' تو شیطان نے جواب دیا ''وہ دو چیزیں ایسی ہیں نہ تو مجھے جھٹلاتی ہیں اور نہ ہی میرے خلاف جاتی ہیں، ان کے ذریعے میں لوگوں کوہلاکت میں ڈالتا ہوں، وہ حرص اور حسدہیں، حسدہی کی وجہ سے مجھ پر لعنت ہوئی اور میں مردود شیطان بن گیا اور حرص کی وجہ سے میں نے( حضرت سیدنا) آدم(علیہ الصلوٰۃ والسلام)سے اپنی حاجت پوری کی کیونکہ (حضرت سیدنا)آدم (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے لئے ایک درخت کے علاوہ ساری جنت مباح کر دی گئی تھی مگر وہ اس پرصبرنہ کرسکے۔''