| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
حسد، بُرے گمان اور فال لینے سے، کیا میں تمہیں ان سے نجات کا طریقہ نہ بتاؤں؟ جب تمہیں بدگمانی پیداہوتواس پریقین نہ کرو اور جب حسدمیں مبتلاء ہوجاؤ تو زیادتی مت کرو اور جب تمہیں بدشگونی پیداہو تو اس کام کو کر گزر و۔''
(کنزالعمال، کتاب المواعظ،قسم الاقوال، الحدیث:۴۳۷۸۲،ج۱۶،ص۱۳)
(95)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' تین چیزیں ایسی ہیں جن میں کسی کو کوئی رخصت نہیں: (۱)والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا خواہ وہ مسلمان ہوں یاکافر(۲)وعدہ پوراکرناخواہ مسلمان سے کیا ہو یا کافر سے اور (۳)امانت کی ادائیگی خواہ مسلمان کی ہو یا کافر کی۔''
(شعب الایمان، باب فی الایفاء بالعقود،الحدیث:۴۳۶۳،ج۴،ص۸۲)
(96)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' اللہ عزوجل فرماتا ہے : قیامت کے دن میں تین شخصوں سے جھگڑوں گا اور جس سے میں جھگڑوں گا یقینااس پر غالب آ جاؤں گا: (۱)وہ شخص جسے میرے لئے کچھ دیا گیا پھراس نے اس میں بددیانتی کی(۲)جس نے کسی آزادشخص کو بیچا پھر اس کی قیمت کھا گیااور (۳)جس نے کسی کو اجرت پر رکھا پھر اس سے پورا کام لے لیا مگر اس کا پورا حق ادا نہ کیا۔''
(سنن ابن ماجہ ،ابواب الرھون، باب اجرالاجراء،الحدیث:۲۴۴۲،ص۲۶۲۳،حقہ بدلہ''اجرہ'')
تنبیہات
تنبیہ1:
شیطان انسان کاکھلادشمن ہے اور چونکہ انسان کی سب سے اعلیٰ چیز اس کا دل ہے لہٰذا شیطان صرف انسان کی ظاہری خرابی پر قناعت نہیں کرتا کیونکہ انسان کی ذات میں فساد ڈالنا تو اس کا مقصد ہی نہیں بلکہ اس اعلیٰ چیز کو خراب کر دینا اس کا مقصد ہے اس لئے ہر مکلف انسان پر اپنے دل کو شیطان کے فسادات سے بچانا فرضِ عین ہے، اور چونکہ ان فسادات تک ان کے مداخل (يعنی داخل ہونے کے راستوں ) کی معرفت سے ہی پہنچا جا سکتا ہے نیز فرض تک پہنچنا جس چیز پر موقوف ہو وہ بھی ضروری ہی ہوتی ہے، لہٰذا اس کے مداخل کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے اور وہ مداخل بندے کی صفات ہیں۔حرص:
یوں تویہ صفات بہت سی ہیں مگر ان میں حسد اور حرص سرِفہرست ہیں، بعض اوقات بندہ کسی چیزکی حرص میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس چیزکی حرص اسے اندھا ،بہرہ کر دیتی ہے، چنانچہ،
لُعِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسْرَآءِیۡلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِیۡسَی ابْنِ مَرْیَمَ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّکَانُوۡا یَعْتَدُوۡنَ ﴿78﴾