(83)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ارشاد فرمایا: ''اے عائشہ! اگرتم (آخرت میں) ميرے ساتھ ملنا چاہتی ہو تو تمہارے لئے دنیا سے اتنا ہی کافی ہے جتنا ایک مسافر کا توشہ ہوتا ہے، اغنیاء کے ساتھ بیٹھنے سے بچتی رہو اور کپڑے کو اس وقت تک پرانانہ سمجھو جب تک اس میں پیوندنہ لگا لو۔''
(جامع الترمذی، ابواب اللباس،باب ماجاء فی ترقیع الثوب،الحدیث:۱۷۸۰،ص۱۸۳۳)
(84)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل فرماتاہے :'' میرے نزدیک اپنے بندے کی سب سے پسندیدہ عبادت لوگوں سے خیرخواہی کرناہے۔''
(کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال، الحدیث:۷۱۹۷،ج۳،ص۱۶۶)
(85)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' بے شک دین خیرخواہی کانام ہے، بے شک دین خیر خواہی ہے، بے شک دین خیرخواہی کو کہتے ہیں۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی ''یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کس کے ساتھ خیرخواہی؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اللہ عزوجل، اس کی کتاب، اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم،ائمہ مسلمین اور عام مسلمانوں کی خیرخواہی۔ ۱؎''
(سنن ابی داؤد،کتاب الادب، باب فی النصیحۃ،الحدیث:۴۹۴۴،ص۱۵۸۵)
(86)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جوقیامت کے دن پانچ چیزیں لے کرآئے گا اسے جنت سے نہ روکا جائے گا:(۱)اللہ عزوجل(۲)اس کے دین(۳)اس کی کتاب(۴)اس کے رسول اور (۵) مسلمانوں کی جماعت کی خیرخواہی۔''
(کنزالعمال،قسم الاقوال، کتاب الاخلاق ، الحدیث:۷۱۹۹،ج۳،ص۱۶۶)
(87)۔۔۔۔۔۔حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''مؤمن اس وقت تک اپنے دین کے حصار میں رہتا ہے جب تک اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی چاہتا ہے اور جب اس کی خیرخواہی سے الگ ہو جاتا
۱؎:امام نووی علیہ رحمۃ اللہ الولی مسلم شریف کی شرح میں اس کا مفہوم بیان فرماتے ہيں، جس کا خلاصہ یہ ہے:''اللہ عزوجل کے لئے خیرخواہی سے مراد ''اللہ عزوجل پر ایمان لانا، شرک سے بچنا، اس کی اطاعت کرنا وغیرہ، کتاب اللہ کی خیرخواہی سے مراد اس بات پرایمان لاناکہ یہ ''اللہ عزوجل کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور یہ مخلوق کے کلام کے مشابہ بالکل نہیں ،اللہ عزوجل کے رسول کی خیرخواہی سے مرادان کی رسالت کی تصدیق کرنااور ان کے لائے ہوئے احکام پر ایمان لانا، ائمہ مسلمین یعنی علماءِ دین کی خیرخواہی سے مراد یہ ہے کہ حق پر ان کی معاونت واطاعت کرنا اورانہیں ان کی غفلتوں سے بچانے کی کوشش کرنا اور عام مسلمانوں کی خیرخواہی سے مراد یہ ہے کہ ان کی دنیاوآخرت کی بہتری کے لئے انہیں نصیحت کرنانیز ان کے ساتھ ہر طرح کی ہمدردی کرنا۔''
(ماخوذ ازشرح مسلم للنووی،ج ۱،ص۵۴)