(77)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا :''تم میں سے میرا پسندیدہ ترین اور قریب ترین وہ ہو گا جو مجھے اسی حال میں ملے جس میں مجھ سے جدا ہوا تھا۔''
(کنزالعمال، کتاب الفضائل،فضائل الصحابہ، الحدیث:۳۶۶۵۸،ج۱۳،ص۹۵)
(78)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''بہترین مؤمن قناعت پسند ہوتا ہے جبکہ بدترین مؤمن لالچی ہوتا ہے۔''
(فردوس الاخبارللدیلمی،باب الخاء،الحدیث:۲۷۰۷،ج۱،ص۳۶۵)
(79)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بنی اسرائیل میں ایک بکری کے بچے کو اس کی ماں دودھ پلایا کرتی اور اسے سیراب کر دیتی تھی، پھر اس کی ماں مر گئی تو ریوڑ کی دوسری بکریاں اسے دودھ پلاتیں مگر وہ شکم سیر نہ ہوتا، تواللہ عزوجل نے بنی اسرائیل کی طرف وحی بھیجی کہ''اس کی مثال اس قوم کی سی ہے جو تمہارے بعد آئے گی، ان میں سے ایک شخص کو اتنا مال دیا جائے گا جو ایک اُمت اور قبیلے کے لئے کافی ہو گا پھر بھی وہ شکم سیرنہ ہو گا۔''
(کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال، الحدیث:۷۱۲۶،ج۳،ص۱۶۰)
(80)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''میری اُمت کے بدتر لوگوں میں سے سب سے پہلے جہنم کی طرف ہانکے جانے والے لوگ وہ سردار ہوں گے جو کھاتے ہیں تو شکم سیر نہیں ہوتے اور جب جمع کرتے ہیں تو غنی نہیں ہوتے۔''
(المرجع السابق، الحدیث:۷۱۳۲،ص۱۶۱)
(81)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو اپنے رزق پرراضی نہ ہو اور جو اپنی بیماری کی خبر عام کرنے لگے اور اس پر صبرنہ کرے اس کا کوئی عمل اللہ عزوجل کی طرف بلند نہ ہو گا اور وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پرناراض ہوگا۔''
(حلیۃ الاولیاء، یوسف بن اسباط، الحدیث:۱۲۱۶۲،ج۸،ص۲۶۸)
(82)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باذنِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جس کا مال کم ہو، اہل و عیال زیادہ ہوں، نماز اچھی ہو اور وہ مسلمانوں کی غیبت بھی نہ کرے تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو میرے ساتھ