(56)۔۔۔۔۔۔سرکارِمدینہ،صاحبِ معطرپسینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''جس نے کسی عورت کواس کے شوہریاغلام کواس کے آقا کی سرکشی پر ابھارا وہ ہم میں سے نہیں۔''
(سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب فیمن خبب مملوکا۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۵۱۷۰،ص۱۶۰۱)
(57)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے کسی عورت کواس کے شوہر یا غلام کواس کے آقا کی سرکشی اور نافرمانی پرابھارا وہ ہم میں سے نہیں۔''
(سنن ابی داؤد،کتاب الطلاق ،باب فمن ۔۔۔ امراۃ ۔۔۔۔۔۔الخ ، ۲۱۷۵،ص۱۳۸۳ )
(58)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے ہمارے ساتھ بددیانتی کی وہ ہم میں سے نہیں اور مکروفریب جہنم میں(لے جانے والے)ہیں۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۱۰۲۳۴،ج۱۰،ص۱۳۸)
(59)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے کسی مسلمان کے ساتھ بددیانتی کی یا اسے نقصان پہنچایا یا دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔''
(جامع الاحادیث للسیوطی،قسم الاقوال،الحدیث:۱۸۰۹۶،ج۵،ص۱۹۰)
(60)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''دغاباز، بخیل اور احسان جتلانے والاجنت میں داخل نہ ہوگا۔''
(جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ،باب ماجاء فی البخل،الحدیث:۱۹۶۳،ص۱۸۴۹)
(61)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جس نے کسی مسلمان کے اہل خانہ میں بددیانتی کی اور نقصان پہنچایا وہ ہم میں سے نہیں۔''
(المطالب العالیۃ،باب تفسیر الکبائر،الحدیث:۲۹۴۷،ج۷،ص۴۲۴،''ضارہ'' بدلہ'' خادمہ'')
(62)۔۔۔۔۔۔نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے کسی خادم کواس کے مالک کی سرکشی پر ابھارااور عورت کے تعلقات اس کے شوہرسے خراب کئے وہ ہم میں سے نہیں۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند ابی ھریرۃ،الحدیث:۹۱۶۸،ج۳،ص۳۵۶)
(63)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' جس نے کسی غلام کواس کے آقاسے بگاڑاوہ ہم